خبروں کے نام پرانتشار، فتنہ پھیلانا غنڈہ گردی تو ہوسکتی ہے صحافت نہیں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ خبروں کے نام پرانتشار، فتنہ پھیلانا غنڈہ گردی تو ہوسکتی ہے صحافت نہیں، جھوٹ، بہتان اور لوگوں کی عزتیں اچھالنا ہمیشہ نہیں چل سکتا . انہوں نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ آج جن حالات کا ARY کو سامنا ہے وہ ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے .


انہوں نے کہا کہ جھوٹ، بہتان اورلوگوں کی عزتیں اچھالنا ہمیشہ نہیں چل سکتا . صحافت کی آڑ میں مال بنانا اور خبروں کے نام پر ملک میں انتشار، فتنہ پھیلانا غنڈہ گردی تو ہوسکتی ہے صحافت نہیں . اسی لیے آج کوئی جیّد صحافی ان کا ساتھ دینے سے قاصر ہے . مزید برآں وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی متنازع بیان پر گرفتاری کے بعد عندیہ دیا ہے کہ عمران خان کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے .
دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا . متنازع بیان دینے کا فیصلہ جس اجلاس میں ہوا تمام شرکاء کے خلاف مقدمہ درج ہو گا ضرورت پیش آئی تو عمران خان کو گرفتار کریں گے . رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بیان دینے کی ڈیوٹی شہباز گل اور فواد چودھری کی لگی دیکھنا ضروری ہے کیا اس بیان کے پیچھے پارٹی پالیسی تھی ،ان سے بڑی غلطی ہوئی ہے اور اب اس سے یہ کور نہیں کر سکیں گے .
خیال رہے کہ شہباز گل کو گذشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا . آج اسلام آباد کی عدالت نے غداری کے مقدمے میں گرفتار پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا . شہباز گل کو اسلام آباد کچہری میں پیش کیا گیا جہاں ڈیوٹی مجسٹریٹ عمر شبیر نے کیس کی سماعت کی . اسلام آباد پولیس کی جانب سے عدالت سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی .
شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت میں جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی مخالفت کی . پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم شہباز گل سے موبائل فون برآمد کرنا ہے . ملزم جس پیپر کو دیکھ کر بول رہا تھا وہ بھی برآمد کرنا ہے . پروگرام کس کے کہنے پر ہوا اس بارے میں بھی تفتیش کرنی ہے لہٰذا ملزم کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے . اسلام آباد کی عدالت نے غداری کے مقدمے میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا . عدالت کی جانب سے کوہسار پولیس کو شہباز گل کو جمعہ کے روز دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے .

. .
Ad
متعلقہ خبریں