شیخ ہمدان کی سوشل میڈیا پر وائرل پاکستانی فوڈ ڈیلیوری رائیڈر سے ملاقات

دبئی (قدرت روزنامہ) دبئی کے ولی عہد اور ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ ہمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے پاکستانی فوڈ ڈیلیوری رائیڈر سے ملاقات کی ہے، شیخ ہمدان نے سوشل میڈیا پر دبئی میں انسانیت کے لیے اچھائی کا کام کرنے پرعبدالغفور کی تعریف کرتے ہوئے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی . تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز دبئی کے ولی عہد اور ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ ہمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستانی فوڈ ڈیلیوری رائیڈر عبدالغفور کے ہمراہ ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں شیخ ہمدان کو عبدالغفور کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑے دیکھا جاسکتا ہے، اس تصویر کے ساتھ عنوان میں دبئی کے ولی عہد نے لکھا کہ عبدالغفور آپ سے ملنا اعزاز کی بات ہے کیوں کہ آپ ایک حقیقی رول ماڈل ہیں جن کی تقلید کی جانی چاہیے .


خیال رہے کہ چند روز قبل پاکستانی فوڈ فوڈ ڈیلیوری بوائے عبدالغفور عبدالحکیم نے دبئی کی ایک مصروف شاہراہ سے کنکریٹ کی 2 گری ہوئی اینٹوں کو ہٹایا تھا اور کسی نے اس کے بہادرانہ عمل کی ویڈیو آن لائن پوسٹ کردی، یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو اس نے شیخ ہمدان بن محمد بن راشد المکتوم کی توجہ بھی اپنی طرف مبذول کرائی، جنہوں نے اپنے لاکھوں سوشل میڈیا فالوورز سے اس شخص کی شناخت کے لیے مدد مانگی .
اس حوالے سے شیخ ہمدان نے ایک پوسٹ کی، جس میں فوڈ ڈیلیوری بوائے کے عمل کو سراہا گیا ، اپنی پوسٹ کے ساتھ شیخ ہمدان نے لکھا کہ یہ دبئی میں کیا گیا ایک اچھا عمل ہے جس کی تعریف کی جائے ، کیا کوئی اس آدمی کی شناخت کرسکتاہے؟ .
اس پوسٹ کی تھوڑی دیر بعد ہی دبئی کے ولی عہد نے ایک اور پوسٹ لگائی جس میں انہوں نے بتایا کہ "اچھا آدمی" مل گیا ہے، "شکریہ عبدالغفور! ہم جلد ہی ملاقات کریں گے .
"
اس حوالے سے پاکستانی فوڈ ڈیلیوری رائیڈر نے بتایا کہ شیخ ہمدان کے ویڈیو پوسٹ کرنے کے چند منٹوں کے اندر ہی مجھے دبئی پولیس کی جانب سے ایک کال موصول ہوئی جس میں مجھ سے رابطے کی تفصیلات کی تصدیق کی گئیں اور بتایا گیا کہ دبئی کے ولی عہد مجھ سے بات کرنا چاہیں گے . عبدالغفور نے کہا کہ سچ کہوں تو مجھے ابھی تک یقین نہیں ہے کہ شیخ ہمدان مجھ جیسے عام آدمی سے بات کرنا چاہتے تھے، مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا اور جب کال آئی تو میں کھانے کی ڈیلیوری کے لیے باہر تھا، دبئی کے ولی عہد نے جو کچھ میں نے کیا اس کے لیے میرا شکریہ ادا کیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس وقت ملک سے باہر ہیں اور وعدہ کیا کہ واپس آتے ہی مجھ سے ملاقات کریں گے .

. .
Ad
متعلقہ خبریں