فرح خان نے عطااللہ تارڑ کو ہتک عزت کا ایک اور نوٹس بھجوادیا

لاہور (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصا ف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح خان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطااللہ تارڑ کو ہتک عزت کا حتمی قانونی نوٹس بھیج دیا . فرح خان کے وکیل اظہر صدیق نے 10 اگست کو بھیجے گئے قانونی نوٹس میں کہا کہ عطااللہ تارڑ نے ٹھوس ثبوتوں کے بغیر ان کی طرف سے اٹھائے گئے الزامات کی تردید کی تھی .


عطااللہ تارڑ کو بھیجے گئے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ کے وکیل نے 'فرح خان عرف گوگی فرحت شہزادی' کہہ کر ہماری مؤکلہ کی ہتک عزت کی ہے اور توہین آمیز نام کا استعمال کیا، جس سے ہمارے قانونی نوٹس کے ذریعے چیلنج کیا جا رہا ہے، جو اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ آپ نے ہمارے مؤکلہ کو بدنام کیا ہے .
نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فرح خان، اس کے نام اور اس کی ساکھ کی بدنامی سے گریز کریں اور نوٹس موصول ہونے کے سات دن کے اندر غیر مشروط معافی مانگیں اور وہ فرح خان کی مزید ہتک عزت سے باز رہیں .

فرح خان کی طرف سے بھیجے گئے قانونی نوٹس میں عطااللہ تارڑ سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نوٹس موصول ہونے کے سات دن کے اندر الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہر ممتاز اخبار میں ایک بیان شائع کریں اور تنازع ختم کرکے تحریری یقین دہانی کے ساتھ غیر مشروط معافی مانگیں . اس کے علاوہ قانونی نوٹس میں عطااللہ تارڑ سے ماضی میں تضحیک اور ہتک آمیز اصطلاح استعمال کرنے پر فرح خان کو 5 ارب روپے اور مئی 2022 میں لندن میں ایک بار پھر اسی طرح کی اصطلاح استعمال کرنے پر اضافی 5 ارب روپے ادا کرنے کو کہا گیا ہے .
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ چونکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے پہلے نوٹسز میں دی گئی درخواستوں پر عمل نہیں کیا اس لیے ہم ان کو مطلع کر رہے ہیں کہ ہم ان کے خلاف مجاز دائرہ اختیار کی عدالت میں ہتک عزت کی کارروائی شروع کر رہے ہیں . خیال رہے کہ رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی سربراہ کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد فرح خان ملک چھوڑ کر باہر چلی گئیں ہیں، جس کے بعد انہیں متعدد مقدمات میں نامزد کردیا گیا ہے، جو نیب اور دیگر تفتیشی اداروں نے دائر کردیے ہیں .
جولائی میں پنجاب کے محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے فرح خان اور ان کی والدہ کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جبکہ دو دیگر افراد کو ان کی کمپنی کے لیے 10 ایکڑ کے دو صنعتی پلاٹوں کی مبینہ طور پر غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا . فرح خان کو وہ پلاٹ حکومت کی طرف سے پیش کردہ رعایتی قیمت پر الاٹ کیے گئے تھے جو 8 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کا تھا لیکن ان کی مارکیٹ میں قیمت تقریباً 60 کروڑ روپے تھی .
اس سے قبل اپریل میں نیب نے ان کے خلاف آمدن سے زائد غیر قانونی اثاثے جمع کرنے، منی لانڈرنگ اور کاروبار کے نام پر مختلف اکاؤنٹس کھولنے کے الزامات پر ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا . تاہم، پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے فرح خان کو بے قصور قرار دیتے ہوئے بدعنوانی کی تحقیقات کو ان کے خلاف سیاسی انتقام قرار دیا تھا .

. .
Ad
متعلقہ خبریں