کراچی میں ڈینگی کے کاری وار جاری، بڑے اسپتالوں میں ڈینگی مریضوں کے لیے بیڈ کم پڑ گئے

کراچی (قدرت روزنامہ) کراچی میں ڈینگی کی وبا کے کاری وار جاری ہیں، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ڈینگی مریضوں کے لیے بیڈ کم پڑ گئے، نجی اور سرکاری اسپتالوں میں جگہ نہ ہونے پر مریضوں کو واپس بھیجا جانے لگا۔ڈینگی مریضوں کی بڑی تعداد گھروں پر زیرِ علاج ہے، شہر میں 24 گھنٹے میں مزید 161 ڈینگی کیسز سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب ماہرین صحت نے ڈینگی کے بڑھتے کیسز اور وبائی امراض پر شہریوں سے خون کے عطیات کی اپیل کردی۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق ڈینگی کے سب سے زیادہ 48 مریض ضلع وسطی میں رپورٹ ہوئے ہیں۔وزیرِ صحت نے کراچی میں ڈینگی سے اب تک 9 اموات کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر سو سے ڈیڑھ سو کیسز رپورٹ ہونے کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپتالوں کی گنجائش 15 سے 20 فیصد رہ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی کی 246 یونین کونسل کے لیے مجموعی طور پر 60 اسپرے گاڑیاں موجود ہیں جن میں سے 30 گاڑیاں 3 سال سے خراب کھڑی ہیں اور صرف 30 گاڑیوں سے اسپرے کیا جارہا ہے۔ذرائع نے کہاکہ شہر بھر میں اسپرے سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کر رہا ہے، جبکہ مچھروں اور وبائی امراض سے بچاؤکی ذمہ داری کے ایم سی کی ہے۔کراچی میں اسپرے کرنے کے لیے 60 افراد پر مشتمل اسٹاف موجود ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ اسپرے کرنے والی فی گاڑی کو 15 لیٹر پیٹرول، 40 لیٹر ڈیزل کے ساتھ ایک لیٹر ڈیلٹا میتھرین دوائی دی جاتی ہے۔علاوہ ازیں سندھ بھر کے عوام سے ڈاکٹروں نے خون کے عطیات کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب کی صورتحال کے باعث وبائی امراض کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی، ٹائفائیڈ، ملیریا نے خطرناک صورتحال اختیار کی ہوئی ہے، تھیلیسیمیا کے بچوں کوبھی خون کی روزانہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت خون کی شدید کمی کا سامنا ہے، سال میں باآسانی 3مرتبہ خون دیا جاسکتا ہے۔
