ہم کیا چھوڑ کر گئے اور امپورٹڈ سرکار نے کیسے معیشت کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف اور عالمی بنک کی رپورٹس سے ظاہر ہے کہ بلندی کی جانب گامزن ایک مستحکم معیشت ملنے کے باوجود یہ امپورٹڈ حکومت معیشت کو تباہی کے گھڑے میں گِرنے سے بچانے میں ناکام رہی۔اقتصادی سروے اس حقیقت کا عکاس ہے کہ ہماری معاشی کارکردگی گزشتہ 70 برسوں میں بہترین تھی۔
ہمارے دور میں شرحِ نمو (6%)،صنعت، ذراعت، فراہمی روزگار،تعمیرات، برآمدات، ترسیلاتِ زر اور ٹیکسوں کی وصولیاں لامحالہ تاریخ میں بلند ترین سطح پر رہیں۔ آج پاکستان کو بدترین مہنگائی،سماج کا ہرطبقہ جس کی زد میں ہے،بیروزگاری، غذائی عدمِ تحفظ اور روپے کی قدر میں پیہم گراوٹ کا سامنا ہے۔
عمران خان نے مزید کہا کہ امپورٹڈ سرکار مکمل طور پر بے سمت بھٹک رہی ہے۔
مجرموں کے اس گروہ کا واحد کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے چوری کئے گئے اربوں روپے پر ایک اور این آر او حاصل کرلیا ہے۔ ایک سوال جو پوری قوم کی زبان پر ہے وہ یہ کہ پاکستان کے خلاف اس مکروہ سازش کا ذمہ دار کون ہے؟۔
۔دوسری جانب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف کی تعیناتی کا اصل مسئلہ پاکستان پیپلز پارٹی اور شہبازشریف میں پڑ گیا ہے۔
شیخ رشید احمد نے اپنے ٹوئٹ میں کہاکہ اصل تعیناتی کا مسئلہ پی پی پی اور شہبازشریف میں پڑ گیا ہے، عمران خان خوبصورت سوئنگ کرا کے الگ ہو گیا ہے، بلاول نے شہباز کے جہاز میں ثمرقند جانا بھی پسند نہیں کیا۔انہوں نے لکھا ہے کہ پسِ پردہ مفاہمتی کوششیں 15 اکتوبر تک کامیاب ہوسکتی ہیں ورنہ سڑکوں پر جوڈو کراٹے ہوں گے۔شیخ رشید نے ایم کیو ایم پاکستان سے متعلق لکھا ہے کہ ایم کیو ایم کی سیاست اس کے گلے پڑ گئی ہے، وقت پر فیصلینہ ہوں تو وقت انتظار نہیں کرتا۔
