ہمیں مان لینا چاہئے کہ ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں

لاہور(قدرت روزنامہ) سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریو نیو شبر زیدی کا کہنا ہے کہ ہمیں مان لینا چاہئے کہ ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں . عمران خان ، شہباز شریف اور مفتاح اسماعیل سچ نہیں بولتے .

انہوں نے لاہور میں سیمینار سےخطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان کی دکان اس طرح نہیں چل سکتی، ملک نیچے جا رہا ہے . انہوں نے کہا یہ کہنا درست نہیں کہ ہم دیوالیہ نہیں ہیں، ہم ہر سال منفی سے آغاز لیتے ہیں .
ہمارا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سچ نہیں بولتے . انہوں نے کہا میں اکاؤنٹنٹ ہوں مجھے نہیں لگتا ایسے بچیں گے . شبر زیدی نے کہا ہمارا جی ڈی پی 375 ارب ڈالر ہے، ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح 10 فیصد ہے . پڑوسی ملک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مودی نے 3 سال میں ساڑھے 3 کروڑ ٹیکس فائلرز شامل کیے،آخری آدمی تھا جس نے عمران خان کو کہا آئی ایم ایف کے پاس جانا ہو گا .
شبر زیدی نے یہ بھی کہا کہ عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایم ایف کی مکمل سپورٹ تھی، میں ایف بی آر کا مضبوط چئیرمین تھا لیکن 8 ماہ کے بعد فیصلہ کیا کہ کام نہیں کر سکتا . قبل ازیں شبر زیدی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف رپورٹ میں واضح خطرات سے آگاہی دی گئی ہے کہ پاکستان کو10سی12بلین ڈالرکی سرمایہ کاری چاہیے، سرمایہ کاری نہ آئی تو آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود ہم ڈیفالٹ میں جائیں گے .
ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس قرضے دینے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، ہم اس وقت واشنگٹن کے غلام ہیں کیونکہ ہم قرضے واپس نہیں کرسکتے، کوئی اگریہ کہتا ہے کہ ہم غلام نہیں تو وہ معیشت کے بارے میں نہیں جانتا . انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس آپشن ہی نہیں کہ آئی ایم ایف سے باتیں منوالے ،حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ آئی ایم ایف کے بغیرہم آگے نہیں بڑھ سکتے،موجودہ حالات میں آئی ایم ایف کچھ بھی کہے گاحکومت کو ماننا پڑے گا .

. .
Ad
متعلقہ خبریں