خاتون جج کو دھمکیاں دینے کا کیس، عمران خان پر آج فرد جرم عائد ہو گی، سکیورٹی کے سخت انتظامات کر لیے گئے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دئیے گئے بیان پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے سماعت آج دوپہر ڈھائی بجے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی . جیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے حوالے سے پولیس سیکیورٹی آرڈر جاری کر دیا گیا اور آج کی پیشی پر 2 ایس پیز سمیت 710 افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں .


سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ہائیکورٹ کے گرد مانیٹرنگ کی جائے گی . اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر حفاظتی انتظامات کی ذمہ داری سیکیورٹی ڈویژن کی ہو گی . اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر ایف سی اور رینجرز کے اہلکار بھی تعینات ہوں گے . سیکیورٹی آرڈر کے مطابق عدالت کے روف ٹاپ کے علاوہ تمام افسران اور اہلکار غیر مسلح ہوں گے .
ہائیکورٹ کے باہر سیکیورٹی کی ذمہ داری ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر کی ہو گی اور ڈیوٹی پر تعینات کوئی بھی اہلکار موبائل فون استعمال نہیں کرے گا .

وائرل لیس کا استعمال ڈیوٹی کے لیے ہو گا، غیر ضروری استعمال پر محکمانہ کارروائی ہو گی . رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف خاردار تاریں لگا کر راستہ بند کر دیا گیا . 500 شارٹ رینج اور 500 لانگ رینج آنسو گیس شیل، شیلنگ والی بکتر بند گاڑیاں موجود ہوں گی . جبکہ پولیس لائنس میں 3 ہزار شیل اور گاڑیاں تیار کھڑی ہوں گی . علاوہ ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے توہین عدالت کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی آج عدالت میں پیشی سے متعلق ضابطہ اخلاق کا سرکلر جاری کیا .
سرکلرمیں بتایا گیا کہ لارجر بینچ آج 22 ستمبر دوپہر ڈھائی بجے کیس کی سماعت کرے گا سرکلر کے مطابق کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخلہ رجسٹرار آفس کے جاری کردہ پاس سے مشروط ہوگا . سرکلر میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کی قانونی ٹیم کے 15 وکلا کمرہ عدالت میں موجود رہ سکیں گے سرکلر کے مطابق اٹارنی جنرل آفس اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 15 قانونی افسران کو عدالت میں جانے کی اجازت ہوگی اس کے ساتھ ساتھ 3 عدالتی معاونین کو بھی جانے کی اجازت ہوگی عدالت کی جانب سے جاری سرکلر میں مزید بتایا گیا ہے کہ 15 کورٹ رپورٹرز کی کمرہ عدالت میں موجودگی کی اجازت ہوگی .
ڈسٹرکٹ بار کے 5،5 وکلا کو بھی عدالت میں سماعت کے دوران بیٹھنے کی اجازت ہوگی . کمرہ عدالت میں آنے والوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا رجسٹرار آفس پاس جاری کرے گاسرکلر میں بتایا گیا کہ عدالتی ڈیکورم کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس سیکیورٹی انتظامات کرے گی لارجربنچ کی سربراہی چیف جسٹس اطہر من اللہ کریں گے جبکہ بینچ میں دیگر جج جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس بابر ستار شامل ہیں .

. .
Ad
متعلقہ خبریں