ڈالر کی قیمت میں اضافے کی رفتار قدرے کم ہو گئی

لاہور(قدرت روزنامہ) ڈالر کی قیمت میں اضافے کی رفتار قدرے کم ہو گئی . تفصیلات کے مطابق مسلسل کئی ہفتوں سے اونچی اڑان اڑنے والے ڈالر کی پرواز کی رفتار میں کمی آ گئی ہے .

جمعرات کے روز انٹربینک مارکیٹ میں امریکی کرنسی کی قیمت میں صرف 6 پیسے کا اضافہ ہوا . انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 239 روپے 65 پیسے سے بڑھ کر 239 روپے 71 پیسے ہو گئی .
جبکہ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 50 پیسے مہنگا ہوا اور قیمت 245 روپے 50 پیسے ہو گئی . واضح رہے کہ پاکستانی روپیہ ستمبر کے دوران سب سے بدترین کارکردگی والی کرنسی قرار دیا گیا ہے . ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے 13 کاروباری ایام کے دوران روپے کی قدر میں 11 فیصد سے زائد کمی ہوئی یعنی ملکی کرنسی کی قدر میں مجموعی طور پر 24 روپے سے زائد کی کمی ہوئی .
پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے حوالے سے بلوم برگ کے چیف ایمرجنگ مارکیٹس اکانومسٹ زیاد داود کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کرنسی ستمبر میں ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں اب تک بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسی رہی ہے، کیونکہ جی سی سی ممالک سے رقم اب تک نہیں آئی، اور موصول ہونے کی کوئی ٹائم لائن بھی نہیں ہے . واضح رہے کہ پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی اونچی اڑان رکنے کا نام نہیں لے رہی، انٹربینک میں ڈالر ملکی تاریخ کی سب سے بلند ترین سطح کو چھونے سے صرف ایک قدم دور رہ گیا ہے .
دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں ڈالر کی قیمت میں 56 روپے کا مجموعی اضافہ ہوا تھا، جبکہ شہباز شریف اور ان کے اتحادیوں کی موجودہ حکومت کے صرف 5 ماہ کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 56 روپے سے زائد مہنگا ہو چکا . ان 5 ماہ کے دوران اوپن مارکیٹ میں ڈالر تقریباً 60 روپے مہنگا ہو چکا . بتایا گیا ہے کہ 5 ماہ کے دوران روپے کی بدترین مندی اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ملک کے صرف بیرونی قرضوں کے حجم میں 7 ہزار 200 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا .
واضح رہے کہ حکومت اور معاشی ماہرین کا دعویٰ تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام بحال ہونے کے بعد ڈالر کی قیمت کم ہو جائے گی، تاہم پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض کی قسط موصول ہونے کے بعد بھی 3 ہفتوں میں ڈالر تقریبا 21 روپے مہنگا ہو چکا .

. .
Ad
متعلقہ خبریں