آرمی چیف کی تعیناتی سیاسی نہیں بلکہ آئینی و انتظامی معاملہ ہے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی سیاسی نہیں بلکہ آئینی و انتظامی معاملہ ہے، اہم تقرری کا اختیار صرف وزیراعظم کے پاس ہے، عمران خان طاقت کی بھوک میں سیاست چمکا رہا ہے . انہوں نے نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان طاقت کی بھوک میں اس وقت سیاست چمکا رہا ہے، میں سمجھتا ہوں ہمیں اس وقت الیکشن، سیاست اور ووٹ مانگنے کو بھول کر صرف انسانیت کی خدمت کا سوچنا چاہیے .


انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سیاست صرف ایک سوال کے گرد گھوم رہی ہے، جبکہ اس میں سیاست نہیں ہونی چاہیے، آرمی چیف کی تعیناتی سیاسی نہیں بلکہ آئینی و انتظامی معاملہ ہے، آرمی چیف کی تقرری کا اختیار صرف وزیراعظم کے پاس ہے .
مزید برآں وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے نیویارک میں تنظیم تعاون اسلامی کے وزرائے خارجہ اجلاس کی صدارت کی . بلاول بھٹو نے سالانہ کوآرڈی نیشن اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا .

وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم تاریخ کے ایک نازک ترین دور سے گزررہے ہیں، کورونا وائرس نے ترقی پذیرممالک میں خوشحالی کے اہداف کی تکمیل کےعمل کو روک دیا، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی نے بھی مشکلات پیدا کیں، مختلف مسائل کی وجہ سے اقوام متحدہ رکن ممالک میں عدم مساوات بڑھ رہی ہے، اسلامی دنیا کو چیلنجز پر عالمی برادری کے سامنے اپنے جامع اور متفقہ ردعمل دینا ہوگا جب اقوام متحدہ کا چارٹر تیار ہوا تو ہم میں سےبیشترمسلم ممالک نے اس کی تیاری میں حصہ نہیں لیا تھا، کوئی مسلم ملک ویٹو کے حق کے ساتھ سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں .
وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیشتر مسلم ممالک نے اس کی تیاری میں حصہ نہیں لیا تھا، اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیشتر مسلم ممالک نے اس کی تیاری میں حصہ نہیں لیا تھا، مسلم دنیا کو القدس کی آزادی کے مقصد کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے، پاکستان فلسطین کاز کے حوالے سے اپنے روایتی مؤقف پر قائم ہے، مسئلہ کشمیر بھی مسلم دنیا کا ایک متفقہ معاملہ ہے، کشمیر پاکستان ہے اور پاکستان کشمیر ہے، پاکستان اور کشمیر تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی طور پر جڑے ہوئے ہیں، کشمیرسے ہمارا ایمان کا رشتہ بھی ہے، پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتا ہے جو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے، افغانستان میں 40 برسوں بعد دوطرفہ قیام امن کا ایک موقع ملا ہے، افغانستان میں کوئی خانہ جنگی نہیں اور ملک کو ایک حکومت چلارہی ہے، افغان حکام کو دہشتگردوں سے مقابلے کیلئے مدد کرنے کیلئے تیار ہیں، تنازعات نے مسلم دنیا کا گھیراؤ کیا ہوا ہے، اس وقت 70 فیصد عالمی تنازعات تنظیم تعاون اسلامی کے رکن ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، تنظیم تعاون اسلامی کو مسلم دنیا کے تنازعات کے حل کیلئے لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا .

. .
Ad
متعلقہ خبریں