امارات میں قرض لینے والے رہائشیوں کے لیے بری خبر

دبئی (قدرت روزنامہ) متحدہ عرب امارات میں لون لینے والے رہائشیوں کے لیے بری خبر ہے کہ تازہ ترین شرح میں اضافے کے بعد آپ 1 لاکھ درہم قرض کے لیے زیادہ سود ادا کریں گے . خلیج ٹائمز کے مطابق یو ایس فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں 75 بی پی ایس اضافے کے بعد متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے پیروی کی اور اس سال لگاتار تیسری بار شرحوں میں اسی طرح کا اضافہ کیا، امارات کے مرکزی بینک کی شرحیں یو ایس فیڈرل ریزرو کی شرحوں سے جڑی ہوئی ہیں کیوں کہ اماراتی درہم ڈالر کے ساتھ منسلک ہے .


سنچری فنانشل کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ارون لیسلی جوہن کہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے رہائشی جنہوں نے مقررہ نرخوں سے متغیر شرحیں لی ہیں وہ اس سال شرحوں میں اضافے سے متاثر ہوں گے، کیوں کہ سال کے آغاز میں متحدہ عرب امارات کی 3 ماہ کی شرح 0.5 فیصد تھی اور آج یہ 3.3 فیصد ہے، 2.89 فیصد کا فرق تمام قسم کے متغیر قرضوں بشمول ذاتی، آٹو اور ہوم لون میں محسوس کیا جائے گا .
انہوں نے کہا کہ 1 لاکھ درہم قرض کے لیے یو اے ای کا قرض لینے والا جو سال کے آغاز میں 4,458 درہم ادا کر رہا تھا اب 4,729 ادا کرے گا، ماہانہ بنیادوں پر کل اخراجات میں سال کے آغاز سے 6 فیصد اضافہ کیا جائے گا، متحدہ عرب امارات کا مرکزی بینک یو ایس فیڈرل ریزرو کی پالیسی سود کی شرح کا آئینہ دار ہے اور 2022ء کے آغاز سے یو ایس فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں 3.5 فیصد اضافہ کیا ہے . ایمریٹس NBD ریسرچ میں مارکیٹ اکنامکس کے سینئر ڈائریکٹر ایڈورڈ بیل نے کہا کہ یو ایس فیڈرل ریزرو سال کے آخر میں شرح کو 4.4 فیصد پر پیش کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ستمبر سے مزید 125 بی پی ایس اضافہ ہوگا، جو مارکیٹ کی توقع سے قدرے تیز ہے .

. .
Ad
متعلقہ خبریں