عالمی ادارے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف دینے پر غور کریں،اقوام متحدہ

نیو یارک (قدرت روزنامہ) اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام کا کہنا ہے کہ پاکستان کو قرض فراہم کرنے والے عالمی اداروں اور ممالک کو قرضوں کی واپسی کیلئے ریلیف دینا چاہیے تاکہ اسے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کا موقع مل سکے . میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ نے عالمی اداروں پر پاکستان کے قرضے معطل کرنے یا انہیں ری شیڈول کرنے پر زور دیا ہے .


اقوام متحدہ نے اپنے پالیسی پپیر میں عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف دینے پر غور کریں تاکہ حکومت سیلاب متاثرین کی مالی امداد کو ترجیح دے سکے . اقوام متحدہ نے پاکستان کو بھی مشورہ دیا ہے قرض داروں کو اپنی مشکلات بتائیں کہ سیلاب کے بعد معاشی بحران میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اسی سلسلے میں اقوام متحدہ رواں ہفتے ایک یادداشت پاکستان سے شیئر کرے گا اور موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کے لیے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کو مزید قرض کی فراہمی کی بھی تجویز دی گئی ہے .
یو این ڈی پی کے پیپر میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والے سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے . قبل ازیں وزیر اعظم ن شہباز شریف نے غیر ملکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امیر ممالک سیلاب کی آفت سے بچنے میں پاکستان کی مدد کریں . بین الاقومی برادری کو پاکستان کی فوری مدد کرنے کی ضرورت ہے،اگر مدد میں دیر کی تو بہت بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے .
سیلاب سے خواتین اور بچوں سمیت کروڑوں لوگ متاثر ہوئے،بارشوں اور سیلاب سے 1 ہزار 500 سےزائد افراد جاں بحق ہوئے . آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے بات کی کہ سیلاب متاثرین کیلئے پروگرام بنایا جائے،دنیا کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا . سیلابی صورتحال میں صنعت کیسے بحال ہوگی؟سردیوں میں متاثرین کو مشکلات زیادہ ہوں گی، لاکھوں گھر تباہ ہوئے،جبکہ لوگ فصلوں اور چھت سے محروم ہوگئے .

. .
Ad
متعلقہ خبریں