سیاسی نوعیت کی پٹیشن عدالت لانے پر اسلام آباد ہائی کورٹ شیخ رشید پر شدید برہم

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیاسی نوعیت کی پٹیشن عدالت لانے پر سابق وزیرداخلہ پرشدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تنبیہ کردی .

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں باہتررکنی وفاقی کابینہ کیخلاف سابق وزیرداخلہ شیخ رشید کی درخواست پر سماعت ہوئی .

شیخ رشید وکیل کے ساتھ پیش ہوئے، سیاسی نوعیت کی پٹیشن عدالت لانے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کیا .

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے تنبیہ کی کہ آئندہ ایسی پٹیشن لائی تومثالی جرمانہ عائد کریں گے .

عدالت نے استفسار کیا کہ پٹشنر جب حکومت میں تھے تو کیا آپ نے وہ معاونین خصوصی، مشیروں کی لسٹ لگائی ہے؟

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا شیخ صاحب آپ کا احترام ہے، آپ پارلیمنٹ کی بے توقیری نہ کریں، یہی مائنڈ سیٹ ہے جس نے پارلیمنٹ کو نقصان پہنچایا .

شیخ رشید کے وکیل نے کہا اس حوالے سے عدالت کےسوا ہمارے پاس اورکوئی فورم نہیں، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اِس پارلیمنٹ کی بے توقیری بہت ہوچکی، ایسی پٹیشن عدالت نہیں آنی چاہیے .

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ میں منتخب نمائندے ہیں، وہ فورم ہے،عدالت مداخلت نہیں کرے گی، عدالت بھی پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے،غیر ضروری ایگزیکٹوکےاختیارات میں بھی مداخلت نہیں کرتی .

عدالت کا کہنا تھا کہ آپ کا انفرادی بنیادی حقوق متاثر ہو رہا ہے توعدالت آئیں لیکن اس طرح نہیں، جرمانہ بھی کر سکتے تھے لیکن تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں .

چیف جسٹس نے کہا کہ جوبھی مقابلہ کرنا ہے ، جائیں پارلیمنٹ میں، اُس سے بڑا فورم کوئی نہیں، حکومت کا احتساب پارلیمنٹ خود کرتی ہے .

جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا آپ عدالت کوپارلیمنٹ کےاحتساب میں کیوں لارہےہیں؟ شیخ صاحب عدالتوں کوان سیاسی معاملات سےدور رکھیں .

اس پر شیخ رشید نے استدعا کی کہ پٹیشن واپس لے لیتے ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے پارلیمنٹ سپریم ہے، اس طرح کے معاملات پارلیمنٹ میں حل کریں، آئندہ ایسی درخواست آئی تو بھاری جرمانہ کریں گے .

چیف جسٹس کا کہنا تھا اس حوالےسےمناسب حکم جاری کریں گے،ماضی میں عدالتوں کاغلط استعمال کیاگیا،اب اس کوختم ہونا چاہیے .

. .

متعلقہ خبریں