راولپنڈی میں لانگ مارچ اور ممکنہ دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو عدالت خود دیکھے گی،لاہورہائی کورٹ راولپنڈی بنچ

اس بات کا بھی جائزہ لیں گے دھرنوں کی پچھلی قسط میں کس کا کیا کردار رہا، ملوث افراد کیخلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوگی،جسٹس وقاص رئوف مرزا کےریمارکس
راولپنڈی(قدرت روزنامہ)لاہورہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس وقاص رؤف مرزانے واضح کیا ہے کہ عدالت راولپنڈی میں لانگ مارچ اور ممکنہ دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو خود دیکھے گی عدالت اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ دھرنوں کی پچھلی قسط میں کس کا کیا کردار رہااورجو بھی قصور وارہوا اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوگی عدالت نے یہ ریمارکس راولپنڈی میں تحریک انصاف کے دھرنوں کے دوران سڑکوں کی بندش سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کے خلاف مختلف رٹ پٹیشنوں کی سماعت کے دوران جاری کئے اس موقع پر تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کو نوٹس موصول نہ ہونے پر عدالت نے عمران خان کو دوبارہ نوٹس جاری کر دیئے بدھ کے روز سماعت کے موقع پرکمشنر و ڈپٹی کمشنرراولپنڈی، سی پی او، سی ٹی او، ڈی آئی جی موٹروے، وزارت مواصلات کا نمائندہ اور آئی بی کا سیکشن افسر عدالت میں پیش ہوئے اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکلا بھی عدالت میں موجود تھے جبکہ تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر کی جانب سے فیصل چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے عمران خان کو نوٹس موصول نہ ہونے پر عدالت نے دوبارہ نوٹس جاری کر دیئے دوران سماعت انٹیلی جنس بیورو(آئی بی)کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے احتجاجی دھرنوں کے متعلق لفافہ بند (Confidential) رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی جبکہ وزارت مواصلات، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ اور آر پی او راولپنڈی نے بھی عدالت میں اپنی رپورٹس جمع کروائیں جن میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی 26نومبر کوراولپنڈی آمد اور ممکنہ دھرنے سے آگاہ کیا گیا تھااس موقع پر اسد عمر کے وکیل نے تحریری جواب داخل کرانے کے لئے عدالت سے مہلت طلب کر لی آئی بی کی لفافہ بند رپورٹ سے متعلق عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ڈی جی آئی بی سے پوچھیں کہ لفافہ بند رپورٹ کو ڈی سیل کیا جاسکتا ہے کہ نہیں یا وہ اس میں کوئی استحقاق چاہتے ہیں کیونکہ لفافہ بند رپورٹ درخواست گزاروں کو بھی فراہم کرنا ہوگی اس موقع پر عدالت نے ڈی آئی جی موٹروے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موٹر وے پولیس کا اختیار اس حد تک ہے کہ اس نے ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنا ہے جس پرڈی آئی جی موٹر وے نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے وزارت مواصلات کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ موٹر وے پولیس بہت اچھا کام کر رہی ہے لیکن یہ ایک بہت سیریس ایشو ہے جسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے اس موقع پر ملک صالح محمد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اس دوران ضلعی انتظامیہ تعلیمی اداروں کو بند کرنا چاہ رہی ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ جو بھی صورت حال پیدا ہوگی عدالت اسکو دیکھے گی عدالت اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ دھرنوں کی پچھلی قسط میں کس کا کیا کردار رہااورجو بھی قصور وارہوا اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوگی عدالت نے مزید کاروائی کے لئے سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کردی یاد رہے کہ راجہ خالد محمود نے ملک صالح محمد ایڈووکیٹ، صدر انجمن تاجران راولپنڈی کینٹ شیخ محمد حفیظ نے کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم ایڈووکیٹ اور پیپلز پارٹی کے رہنماملک خالد نواز بوبی و چوہدری عبدالرحمن توکلی نے اسد عباسی ایڈووکیٹ کے ذریعے سڑکوں اور تعلیمی اداروں کی بندش کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الگ الگ پٹیشنیں دائر کی تھیں پٹیشنوں میں وفاقی سیکریٹری داخلہ،چیف سیکریٹری پنجاب،آئی جی پولیس پنجاب،آر پی او راولپنڈی، سی پی او راولپنڈی،کمشنروڈپٹی کمشنر راولپنڈی،تحریک انصاف کے سربراہ عمران نیازی اورجنرل سیکریٹری اسد عمر کو فریق بنایا گیا تھاان پٹیشنوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا چھوٹی چھوٹی ٹولیوں اور جتھوں کی صورت میں تحریک انصاف کے دھرنوں کے دوران موٹر وے، جی ٹی ر وڈاورمری روڈ سمیت راولپنڈی کی تمام داخلی شاہراہوں کے علاوہ اندرون شہر سڑکوں اور راستوں کی بندش سے شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوئے ڈپٹی کمشنر نے راولپنڈی کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا گیا راستوں کی بندش سے ایمبولینس میں موجود مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہونے کے باوجود ہسپتالوں میں نہ پہنچ سکے جبکہ راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان چلنے والی واحد ٹرانسپورٹ میٹرو بس سروس کی بندش سے یومیہ ہزاروں شہری سفری مشکلات کاشکار ہو رہے ہیں پٹیشنوں میں کہا گیا تھا کہ شہریوں کو سفری سہولیات سے محروم کرنا، ذرائع نقل و حمل اور کاروباری سرگرمیوں کو بند کرناضلعی انتظامیہ کے غیر قانونی اقدامات ہیں راستوں اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے میٹرو بس سروس سمیت ہر قسم کی ٹرانسپورٹ معطل ہونے سے لاکھوں طلبا و طالبات اور ملازمت پیشہ افراد تعلیمی اداروں اور دفاتر میں پہنچے میں ناکام رہے ان اقدامات سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کے بے روزگار ہونے سے ان کے گھروں کے چولہے بند کر دیئے گئے راستوں اور تعلیمی اداروں کی بندش شہریوں، طلبا وطالبات،مریضوں،کاروباری اور ملازمت پیشہ افراد سمیت تمام طبقات کے بنیادی آئینی حقوق بری طرح متاثر کئے گئے .
 
.

.

متعلقہ خبریں