عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات، جے آئی ٹی نے کام روک دیا


لاہور(قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی نے کام روک دیا . جے آئی ٹی نے سی سی پی او لاہور کی معطلی کا نوٹیفیکیشن بحال ہونے پر کام روکا .

جے آئی ٹی ارکان کو ہدایات ملنا عارضی طور پر بند ہو گئیں . وفاقی سروس ٹربیونل نے سی سی پی او لاہور کو معطل کرنے کا نوٹیفیکیشن بحال کیا تھا .
قانونی ماہرین کے مطابق غلام محمود ڈوگر معطل آفیسر ہیں جو جے آئی ٹی کے سربراہ نہیں رہ سکتے . وفاقی حکومت نے غلام محمود ڈوگر کو 5 نومبر کو معطل کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا . غلام محمود ڈوگر اب 5 نومبر سے معطل تصور ہوں گے . پنجاب حکومت نے غلام محمود ڈوگر کو جے آئی ٹی کا سربراہ مقرر کر رکھا ہے .
قبل ازیں بتایا گیا کہ عمران خان پر وزیر آباد میں ہونے والے حملے کی جے آئی ٹی کو کسی دوسرے حملہ آور کی موجودگی اور فائرنگ کے شواہد نہیں ملے .

جے آئی ٹی ممبران نے وزیر آباد میں تین بار جائے وقوعہ کا دورہ کیا، دوران تحقیقات 800 سے زائد پولیس اہل کاروں سے پوچھ گچھ کی اور بیانات ریکارڈ کیے، 90 پولیس اہل کاروں اور افسران سے تحریری بیانات لیے اور 700 سے زائد سے زبانی پوچھ گچھ ہوئی . ذرائع کے مطابق ڈی پی او گجرات، ڈی ایس پی وزیرآباد اور تھانہ سٹی وزیرآباد کے ایس ایچ او کا بھی بیان ریکارڈ کیا گیا، جن پولیس اہل کاروں سے بیانات لیے گئے وہ کنٹینر کے اطراف اور چھتوں پر تعینات تھے، آٹھ سو سے زائد گواہان میں سے کسی نے بھی دوسرے حملہ آور کی موجودگی یا فائرنگ کی تصدیق نہیں کی .
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وقوعہ کے بعد عمران خان نے دو حملہ آوروں کی طرف سے فائرنگ کا دعویٰ کیا تھا، دوران تحقیقات کنٹینر پر کھڑے ایک گارڈ کی فائرنگ کے ٹھوس شواہد بھی سامنے آئے، گارڈ کی شناخت کے لیے کنٹینر پر موجود تمام گارڈز کے اسلحہ کا فرانزک ٹیسٹ کروایا جائے گا، شناخت کے بعد گارڈ کو مقدمہ میں شامل تفتیش بھی کیا جائے گا .

. .

متعلقہ خبریں