معاشی بدحالی انتہا پر پہنچ چکی‘ ملک میں سیاسی استحکام ناگزیر ہے، شاہد خاقان عباسی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ معاشی بدحالی انتہا پر پہنچ چکی ہے، مشکل فیصلے کرکے ملک کو استحکام دینا پڑے گا، جس کے لیے ملک میں سیاسی استحکام ناگزیر ہے، اس صورتحال میں ایک دوسرے پر الزامات اور گالم گلوچ کی سیاست زہر قاتل ہے . کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نفرت کی سیاست پاکستان کے مسائل حل نہیں کرسکتی، معاشی بدحالی انتہا پر پہنچ چکی ہے، عوام کے مسائل ایک طرف رہ گئے ہیں، مشکل فیصلے کرکے ملک کو استحکام دینا ہوگا، وقت آگیا ہے کہ لوگوں کو حقوق دیئے جائیں، ملک کے تمام مسائل کا حل آئین میں موجود ہے، آئین کو تسلیم نہیں کریں گے تو مسائل حل نہیں ہوں گے .


سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ غیر جماعتی فورم پر ملک مسائل پر بات کرنا ہوگی، بلوچستان کے مسائل کی بڑی وجہ غیر نمائندہ لوگ ہیں، ہم مسائل کے حل کا دعوی نہیں کرتے، کیا ایوانوں میں بیٹھے لوگ بلوچستان کے مسائل حل کر رہے ہیں؟ سب اپنے گریبان میں دیکھیں کوئی بھی الزام سے بری الذمہ نہیں، ان سب سائل پر بات کیلئے ایک فورم رکھا جس کی ابتدا کوئٹہ سے ہوئی .
گزشتہ روز کوئٹہ میں سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد کوئی ووٹ حاصل کرنا یا کسی کو نیچا دکھانا نہیں ہے، جب قومی اسمبلی و سینیٹ میں ایک دوسرے کو گالیاں دی جائیں تو عوامی مسائل ایک طرف رہ جاتے ہیں، ملک کی بدقسمتی ہے معیشت کی بدحالی انتہا کو پہنچ چکی ہے، معیشت میں جب مشکل آتی ہے تو پھر مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، مشکل فیصلے کرکے معاملات کو درست سمت میں ڈالنا ہوگا، اپنے مفاد سے بڑھ کر پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھنا ہوگا، معاشی حالات پر قابو پانے کیلئے ایک لمبا عرصہ درکار ہوگا، سب کچھ آزما لیا اب ایک دفعہ آئین پر چلنا ہوگا، ملکی معیشت ہوگی تو سیاست ہوگی .
سابق وزیراعظم نے کہا کہ مسائل اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کوئی تنہا جماعت حل نہیں کرسکتی، سیاسی مفادات سے ہٹ کر دیکھنا ہوگا، صرف سیاست دان ذمہ دار نہیں بلکہ عدلیہ کی حالت سب کے سامنے ہے، نیب، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ کا خوف ہوگا تو پھر سب ذمہ دار ہیں، پاکستان آج اپنے مسائل کی انتہا پر موجود ہے، ملک سیاسی انتشار کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا، سیاست دان اور ماہرین میں احساس نظر نہیں آ رہا، ہم ایٹمی طاقت بن گئے لیکن سکول، ہسپتالوں کا معیار بہتر نہ کر سکے، یہ بہت بڑی ناکامی ہے، آج ایک دوسرے پر الزام لگانے نہیں یکجا ہو کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہو گا، آج پاکستان کو بنیادوں کی طرف واپس آنا پڑے گا،عوام کی رائے، قانون کا احترام نہیں کریں گے تو پھر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا .

. .

متعلقہ خبریں