جی ڈی پی گروتھ 2 فیصد سے بھی کم رہ سکتی ہے

کراچی(قدرت روزنامہ)گورنراسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہےکہ جی ڈی پی گروتھ 2 فیصد سے بھی کم رہ سکتی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل پریشر نظر آرہا ہے، اگر دباؤ ایسے ہی رہا تو مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے . میڈیا رپورٹس کے مطابق گورنراسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے، جس کے تحت اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کردیا ہے، مہنگائی بڑھنے پر ترسیلات پر پریشر آتا ہے اور اس میں کمی دیکھی جارہی ہے، بین الاقوامی تبدیلیوں کے اثرات ملکی سطح پر دیکھے جا رہے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل پریشر نظر آرہا ہے، نومبر دسمبر میں مہنگائی میں کچھ کمی ہوئی لیکن پورے سال شرح بڑھ رہی ہے .


گورنراسٹیٹ بینک کا کہنا ہےکہ شرح سود 16 سے بڑھا کر17 فیصد کر دی گئی، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں بھی چیلنجز کا سامنا ہے، ایکسٹرنل سیکٹرکو مد نظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ کو بڑھانا ناگزیر تھا، اگر دباؤ ایسے ہی رہا تو مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے، مالیاتی معاملات کو دیکھ کر شرح سود بڑھانے کا فیصلہ کیا، ملک میں تجارتی خسارہ 3 اعشاریہ 7 ارب ڈالر ہے .
مزید برآں کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 100 بیس پوائنٹس بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد اب شرح سود ایک فیصد اضافے سے 16 سے بڑھا کر 17 فیصد کی جارہی ہے . انہوں نے کہا کہ نئے انفلوز آنے میں تاخیر کا سامنا ہے جس سے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے، عالمی حالات کی وجہ سے پاکستان کے لیے بھی بے یقینی کی صورتحال ہے اور عالمی حالات سے ترسیلات اور ایکسپورٹ پر اثر آرہا ہے .
علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک نے درآمدات کی پیشگی منظوری کی شرط واپس لے لی، درآمدات سے متعلق اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت جاری کر دی ہیں، اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ بینک تمام درآمد کنندگان کو ون ٹائم درآمد کی سہولت فراہم کریں، یہ سہولت 180 یا زائد دن ادائیگی کی شرط بڑھانے والے مستفید ہوں گے، خوراک، دوا سازی اور توانائی کی درآمد کو ترجیح دیں، سہولت ایسے درآمد کنندگان بھی ہوگی، جن کا مال پہلے سے بندرگاہ پہنچ چکا ہے، بینک 31 مارچ کی شسپمنٹ کی دستاویزات پر کارروائی کریں .

. .

متعلقہ خبریں