اسلام آباد ایف ایٹ کچہری میں فواد چودھری کے خلاف کیس کی سماعت

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پی ٹی آئی رہنماء فواد چودھری نے عدالت میں فیملی اور وکلاء سے بات کرنے کی استدعا کردی، انہوں نے استدعا کی کہ میں سپریم کورٹ کا وکیل ہوں اس طرح کا رویہ اختیار نہ کیا جائے، ہتھکڑی کھولی جائے، 5 منٹ وکلاء اور 5 منٹ فیملی سے بات کرنی ہے . اےآروائی نیوز کے مطابق اسلام آباد ایف ایٹ کچہری میں فواد چودھری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، جس میں تفتیشی افسر نے عدالت سے فواد چودھری کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے .


اس موقع پر فواد چودھری کو عدالت میں پیش کیا گیا، پولیس نے کمرہ عدالت میں بھی فواد چودھری کی ہتھکڑی نہیں کھولی، جس پر فواد چودھری کے وکلاء نے عدالت سے فواد چودھری کی ہتھکڑی کھولنے کی استدعا کی .
فواد چودھری نے کہا کہ باہر 1500پولیس اہلکار تعینات ہیں پھر بھی عدالت کے اندر ہتھکڑی لگائی ہوئی ہے ، اسلام آباد پولیس سے کہیں اس طرح کا رویہ اختیار نہ کریں، میں سپریم کورٹ کا وکیل بھی ہوں اس طرح کا برتاوٴنہ کیا جائے .

ہتھکڑی کھولی جائے، 5منٹ وکلاء اور 5 منٹ فیملی سے بات کرنی ہے . فواد چودھری نے کہا کہ پارٹی کا ترجمان ہوں جو بھی بات کرتا ہوں پارٹی پالیسی ہوتی ہے، ضروری نہیں میں جو بات کروں وہ میرا ذاتی خیال ہو، الیکشن کمیشن نہ کوئی سٹیٹ ہے اور نہ ہی حکومت ہے، الیکشن کمیشن پر تنقید نہیں کرسکتے تو مطلب کسی پر تنقید نہیں کرسکتے، سینئر وکیل، پارلیمنٹرین اور سابق وفاقی وزیر ہوں، میں کوئی دہشتگرد نہیں ہوں کہ مجھے سی ٹی ڈی میں رکھا گیا .
اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ نے فواد چودھری کی بازیابی کی درخواست خارج کردی، میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس طارق سلیم شیخ نے فواد چودھری کی بازیابی کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے . جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں کہا تھا کہ میرے سامنے معاملہ حبس بے جا کا ہے، لیکن اب ایف آئی آر عدالت میں پیش ہوچکی ہے اس کو کیسے حبس بے جا کہہ سکتے ہیں؟ یہ کیس پہلے حبس بے جا کا تھا اب نہیں کیونکہ اب ایف آئی آر عدالت میں پیش ہوچکی ہے . اب یہ حراست تو غیرقانونی نہیں ہے .

. .

متعلقہ خبریں