کوئٹہ (قدرت روزنامہ) سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ مستونگ دھماکے میں ہماری آئندہ نسل کو ہدف بنایا گیا، دھماکے میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے ان کا عدالتی ٹرائل کیا جائے، زندہ قومیں اپنے آج کا دفاع خود کرتی ہیں ،منتشر اور برباد قوموں سے متعلق تاریخ لکھے گی اس سے پہلے کہ تاریخ ہمارے بارے میں لکھے صوبے کے دانشور ، طلباء، حقیقی سیاسی کارکنوں کو چاہئیے کہ وہ اپنی تاریخ کا دفاع کریں . یہ بات انہوں نے گزشتہ روز مستونگ خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کے اہلخانہ سے تعزیت اور کرد ہاﺅس میں سیاسی کارکنوںو عمائدین سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی .
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے درینگڑھ، کھڈکوچہ ،غلام پڑنیز ودیگر مقامات پر واقع شہداءکے گھر جاکر ان کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے شہداءکی ا رواح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی، اس موقع پر نوابزادہ میر رئیس رئیسانی ، سابق وفاقی وزیر میرہمایوں عزیز کرد ودیگر بھی ان کے ہمراہ رتھے . نوبزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہا کہ 29 ستمبر کو عید میلادالنبی ﷺ کے جلو س میں ہونے والے خودکش حملہ میں 61 کے قریب لوگ شہیداور درجنوں زخمی ہوئے ہیںان شہداءاور زخمیوں میں ایک بہت بڑی تعداد نوجوانوں اور بچوں کی ہے اس کا مطلب خودکش دھماکے میں ہماری آئندہ نسل کو ہدف بنایا گیا دھماکہ میں ایک ہی خاندان کے چار اور پانچ لوگ بھی شہید ہوئے ہیں،انہوںنے کہاکہ دھماکے میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے ان کا عدالتی ٹرائل کیا جائے تاکہ ہم بھی دیکھیں کہ ہمارے بے گناہ بچوں کو کیوں قتل کیا گیا . انہوںنے کہاکہ سیکورٹی ادارے اربوں روپے بلوچستان میں سیکورٹی کی مدمیں لے رہے ہیںاس کے باوجود بلوچستان کا تاجر طبقہ، یہاں آباد اقلیتیں غیر محفوظ ہیں نہ عام بلوچ اور پشتون کی عزت ، وقار اور ناموس کو بھی کوئی تحفظ حاصل ہے . انہوںکہا کہ ہمارا قومی نظام اور ثقافت جو صدیوں کے ارتکاءکا اثاثہ ہے اس قومی نظم کو بھی قوموں کے اندر موجودخودغرض لوگوں کے ذریعے اقتدار کی قیمت پر توڑا گیا ہے اور وہ لوگ جو سروں پر پگڑھیاں باندھ کر خود کو بلوچوں اور پشتوں کا نمائندہ کہتے ہیں وہ بھی قوموں کے مفادات کے برعکس قومی نظام کو نقصان پہنچارہے ہیں . انہوںنے کہاکہ زندہ قومیں اپنے آج کا دفاع خود کرتی ہیں جبکہ منتشر اور برباد قوموں سے متعلق تاریخ لکھے گی، اس سے پہلے کے تاریخ ہمارے بارے میں لکھے اور ہم نہ ہوں صوبے کے دانشور ، طلباء، حقیقی سیاسی کارکنوں کو چائیے کہ وہ اپنی تاریخ کا دفاع کریں، انہوںنے کہاکہ اگر آج بھی قومی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب ہم نے اپنے آج اور آئندہ کیساتھ خود ظلم کرکے اپنی آئندہ نسلوں کو کسی اور کے حوالہ کیا ہے .
. .