ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کے جاری خود ساختہ نرخنامے کو تسلیم نہیں کرتے، بلوچستان تندور یونین
کوئٹہ (قدرت روزنامہ) بلوچستان تندور ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد نعیم خلجی نے ڈی سی آفس کوئٹہ کی جانب سے خود ساختہ جاری کردہ نرخنامے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجزیہ کے مطابق ہمیں نیا نرخنامہ جاری کیا جائے ہم حقائق کو پس پشت ڈال کر مرضی کا جاری کردہ نرخنامہ تسلیم نہیں کرتے۔ اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان تندور ایسوسی ایشن گزشتہ کئی عرصے سے بڑھتی ہوئی مہنگائی ، گندم ، گیس، بجلی ، لیبر اور دکانوں کے بڑھتے ہوئے کرایوں کو مد نظر رکھتے ہوئے روٹی کی قیمت میں اضافے کے لئے مطالبات کرتی رہی ہے تاکہ انتظامیہ بڑھتی ہوئی مہنگائی مد نظر رکھ کر روٹی کا نیا نرخنامہ جاری کریں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی
چند روز قبل ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ہمارا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ نیا تجزیہ کرکے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر ریٹ مقرر کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اور رات کی تاریکی میں تجزیہ کے مطابق ریٹ مقرر کرنے کی بجائے اپنی مرضی کا ریٹ مقرر کرکے نرخنامہ جاری کردیا ہے
جس کی ہم مذمت اور اسے مسترد کرتے ہیں ہم ایسے من گھڑت اور یکطرفہ نرخنامہ کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی، گندم اور آٹے سمیت یوٹیلٹی بلوں کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے اور دیگر اخراجات کی وجہ سے پریشان ہیں حکومت اور انتظامیہ نان بائیوں کی مشکلات کو دور کرنے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھارہی جس کی وجہ سے ہمارے مسائل جوں کے توں ہیں اگر یہی روش برقرار رہی تو ہم اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطہ کرکے اپنے مسائل کے حل کے لئے رابطہ کریں گے۔
