پیپلزپارٹی نےپارلیمان کامشترکہ اجلاس موخرکرنے کو حکومت کی بزدلی قرار دے دیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس موخر کرنے کے فیصلے کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہے ،مسلم لیگ ن کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی حکومتی فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی پیشگی شکست دیکھ کر حکومت نےپارلیمان کامشترکہ اجلاس موخر کرکے راہِ فرار اختیار کرلی ہے،پارلیمان میں دو مرتبہ عددی اعتبار سے شکست کے بعد حکومت کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے بھاگنا بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے . تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات  شازیہ عطا ءمری نےکہا کہ وزیراعظم پارلیمان میں اپنی اہمیت کھوچکے ہیں اورحکومتی اراکین تک کی مکمل حمایت عمران خان کو دستیاب نہیں .

انہوں نے کہا کہ  پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے اراکین پارلیمان خود حکومت سے بیزار ہوچکے ہیں، اب عمران خان کا چل چلاؤ ہے ، عمران خان نہ عوام کا سامنا کرسکتے ہیں اور نہ پارلیمان میں عوامی نمائندوں کا سامنا کرسکتے ہیں . رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی ان خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا جس میں یہ کہا گیا ہے کہ دو بڑی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کی درخواست پر پارلیمان کےمشترکہ اجلاس کومؤخر کیا گیا ہے . شازیہ مری نےاپنے تردیدی بیان میں کہا کہ اپوزیشن کی کسی بڑی جماعت نے پارلیمان کا اجلاس کو مؤخر کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی اور نہ اس ضمن میں کوئی ملاقات کی گئی،حکومت قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس کو مؤخر کرنے کی بوکھلاہٹ کو جھوٹی خبروں کی آڑ میں چھپارہی ہے . واضح رہے کہ کل(جمعرات کے روز)ہونے والا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے , وفاقی حکومت نے کلبھوشن و دیگر معاملات پر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 11 نومبر کو طلب کیا تھا . اجلاس مؤخر کرنےکےحوالےسےوفاقی وزیراطلاعات فوادچوہدری کاکہناتھاکہ انتخابی اصلاحات ملک کےمستقبل کامعاملہ ہے،ہم نیک نیتی سےکوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو،اس حوالےسے سپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کا کہا گیا ہےتاکہ ایک متفقہ انتخابی اصلاحات کا بل لایا جا سکے،پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کو اس مقصد کیلئے مؤخر کیا جا رہا ہے،ہمیں امید بھی ہے کہ اپوزیشن ان اہم اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور ہم پاکستان کے مستقبل کیلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر پائیں گے، ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہم اصلاحات سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے . . .

متعلقہ خبریں