اچھے برے لوگ ہوتے ہیں بدقسمتی سے ہمارے پاس گندے لوگ ہیں،افسران دفاترمیں بیٹھ کر گدی گرم کرتے رہتے ہیں،چیف جسٹس گلزار احمد

کراچی(قدرت روزنامہ)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ آدھے کراچی پر قبضہ ہے، افسران صرف دفاترمیں بیٹھ کر گدی گرم کرتے رہتے ہیں، اچھے برے لوگ ہوتے ہیں بدقسمتی سے ہمارے پاس گندے لوگ ہیں۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سندھ میں زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے موقع پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے کیس سے متعلق پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کی جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئے کہ

آدھے کراچی پر قبضہ ہے، کراچی کے گرد و نواح میں جائیں دیکھیں سب غیر قانونی تعمیرات ہورہی ہیں،جائیں جو نام نہاد موٹر وے بنایا ہے وہاں سب قبضہ ہے ، ایئرپورٹ کے ساتھ بھی یہ زمینیں نظر نہیں آتیں ، غیرقانونی ہے؟ آپ حکم پر عمل درآمد کریں ورنہ توہین عدالت کا کیس چلے گا اور جیل جائیں گے ، آپ کا کام عملی نظر آنا چاہیے۔آپ ہمیں کہانیاں سنارہے ہیں، یہ لولی پاپ آپ کے افسران آپ کو دیتے ہوں گے ہمیں مت دیں۔آپ منشی یا بابو نہیں ہو۔جس پر سینئر ممبر نے کہا کہ ہم نوٹس لیتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ ہم نوٹس لیتے ہیں آپ نہیں، آپ روزانہ دس چٹھیاں لکھیں کچھ نہیں ہوتا یہ کام آپ کے افسران کا ہے۔یہ بھتہ لے رہے ہیں، اچھے برے لوگ ہوتے ہیں بدقسمتی سے ہمارے پاس گندے لوگ ہیں۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دئے کہ کہ آپ مافیا کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ؟ ان کا تحفظ کررہے ہیں ؟ آپ شکایت کیوں نہیں بھیجتے ؟ کیا مفادات ہیں آپ کے ؟۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پورے کراچی پر قبضہ ہے اور صرف نو کیسز رپورٹ ہیںسینئر ممبر نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کررہے ہیں ،کورنگی میں قبضے کے خلاف کارروائی بھی شروع کررہے ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ ایک عمارت بتائیں جو بنی ہو انکروچمنٹ پر اور آپ نے گرائی ہو، اب تو آپ کہیں گے سپریم کورٹ کا حکم ہے لہذا زیادہ ریٹ ہوں گے، اب تو وہاں ریٹ بڑھ گئے ہوں گے آپ کے۔افسران صرف دفاترمیں بیٹھ کر گدی گرم کرتےرہتے ہیں،پندرہ پندرہ بیس بیس منزلہ عمارتیں سرکاری زمینوں پر بنی ہوئی ہیں،سپر ہائی وے،نیشنل ہائی وے،ملیر،یونیورسٹی روڈ پر عمارتیں بنی ہوئی ہیں، اس موقع پر سپریم کورٹ نیسرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرانے سے متعلق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ مسترد کردی، عدالت نے ایک ماہ میں سرکاری زمین سے قبضہ ختم کراکے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

Recent Posts

پولیس ریاست مخالف پروپیگنڈا مہم چلانے والے سوشل میڈیا نیٹ ورک تک پہنچنے میں کامیاب

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکومت اور ریاستی اداروں…

11 mins ago

آئی ایم ایف نے 37 ماہ کے لیے7 ارب ڈالر کے توسیعی پیکیج کی منظوری دیدی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے ایگزیکٹو بورڈ نے 2024 آرٹیکل…

19 mins ago

بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل سے کارکنوں کے نام پیغام

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئر مین عمران خان نے اڈیالہ…

28 mins ago

اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر 75 سال کی بہترین تقریروں میں سے ایک تھی، دانیال چوہدری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ یروشیلم…

41 mins ago

قاتلہ ماں، بیٹی کی راہ کی رکاوٹ بن گئی، سرکاری دستاویز کا معاملہ الجھ گیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)اورنگی ٹاون کی طالبہ کے شناختی کارڈ کے اجرا کا معاملہ، متاثرہ…

54 mins ago

آئی ایم ایف کا قرض پروگرام پر مکمل عملدرآمد اور ٹیکس نیٹ وسیع کرنے پر زور

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان…

1 hour ago