انسان دماغی طور پر 32 سال کی عمر میں بالغ ہوتا ہے، تحقیق

لاہور(قدرت روزنامہ)ایک نئی طبی تحقیق نے حیران کن انکشاف کیا ہے کہ انسانی دماغ کی بلوغت کا اصل آغاز ہماری توقعات سے کہیں دیر سے ہوتا ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کی اس تحقیق کے مطابق دماغ کے افعال کے حوالے سے بلوغت دراصل 32 سال کی عمر میں شروع ہوتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ اپنی زندگی میں کئی بڑے مراحل سے گزرتا ہے، جن میں اہم تبدیلیاں پیدائش، 9 سال، 32 سال، 66 سال اور 83 سال کی عمر کے دوران ہوتی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ پیدائش کے بعد دماغ تیز ترین نشوونما کے مرحلے میں ہوتا ہے جو تقریباً 9 سال کی عمر تک جاری رہتا ہے۔ اس کے بعد نوجوانی اور جوانی کے دوران آنے والی تبدیلیوں کا سلسلہ 32 سال کی عمر تک برقرار رہتا ہے۔

ماہرین نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ 32 سال تک دماغ کسی کم عمر فرد کی طرح کام کرتا ہے، بلکہ اس عرصے کے دوران دماغ مسلسل بنتا، بدلتا اور پختہ ہوتا رہتا ہے۔

یہ تحقیق اس بات کی نئی تفہیم فراہم کرتی ہے کہ انسانی دماغ کی مکمل پختگی ایک طویل اور مسلسل عمل ہے، جو ابتدائی جوانی کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert