بلوچستان میں کالا یرقان خاموش قاتل بن گیا، 90 فیصد مریض لاعلم، بلوچستان میں علاج کی سہولیات ناپید


کوئٹہ ( ڈیلی قدرت ) بلوچستان میں کالا یرقان خطرناک حد تک پھیل چکا ہے اور صوبہ اس مہلک بیماری کا مرکز بنتا جا رہا ہے، تاہم حکومتی سطح پر کوئی سنجیدہ اقدامات نظر نہیں آ رہے۔،عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر 30 سیکنڈ بعد ایک شخص ہپاٹائٹس کے باعث زندگی کھو دیتا ہے،لیکن بلوچستان میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک بتائی جا رہی ہے،ماہرین کے مطابق کورونا وبا کے دوران جب دنیا بھر میں اموات کی شرح بلند تھی،اس وقت بھی کالے یرقان سے ہونے والی اموات کورونا سے چار گنا زیادہ رہیں،اس کے باوجود حکومت نے اس مرض کے قابو پانے کے لیے عملی حکمتِ عملی مرتب نہیں کی،امراضِ جگر، معدہ اور آنت کے معروف معالج پروفیسر ڈاکٹر صادق اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ 100 میں سے 90 فیصد افراد کو بیماری کا وقت پر علم نہیں ہوتا اور جب مریض اسپتال پہنچتا ہے تو اکثر اس کا جگر سکڑ چکا ہوتا ہے یا بیماری کینسر کی شکل اختیار کر چکی ہوتی ہے،ان کے مطابق معدے، خوراک کی نالی، چھوٹی اور بڑی آنت اور جگر و لبلبہ کی نالیوں کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،لیکن سرکاری اسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں؛انہوں نے کہا کہ صوبے میں جدید انڈوسکوپی اور ERCP جیسی ٹیسٹنگ کی سہولیات محدود ہیں،جس کے باعث مریضوں کی بڑی تعداد دوسرے صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہے،ڈاکٹر صادق اچکزئی نے SIAG(Sindh Institute of Advance Gastroentrology)اور گمبٹ سینٹر جگر ٹراانسپلانٹی یعنی جگر کی پیوند کاری جیسے اداروں کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں عالمی معیار کا جگر ٹرانسپلانٹ اور گیسٹرو کا جدید مرکز موجود ہے،مگر بلوچستان اب تک اس سطح کا ایک بھی ادارہ قائم نہیں کر سکا، انہوں نے مزید کہا کہا حکومت بلوچستان ہنگامی بنیادو پہر SIAG اور گمبٹ جیسے اداروں سے اشتراک کے طور پہر کویٹہ میں ایک سینٹر کا قیام عمل میں لایا جاء جائے۔اور سندھ حکومت سے درخواست کا بلوچستان میں ایک گیسٹرو سینٹر SIAGاور گمبٹ کی طرزکا قائم کیا جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی عدم توجہ، غیر سنجیدگی اور صحت کے شعبے کی مسلسل نظرانداز پالیسی نے صوبے کو کالا یرقان سمیت دیگر امراض کا گڑھ بنا دیا ہے،شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر صوبے میں جدید ہیلتھ سینٹرز اور تشخیصی سہولیات قائم کرے،ورنہ آنے والے برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے

WhatsApp
Get Alert