چمن دھرنے کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر ایف آئی آرز: آزاد صحافت پر جاری دباو

تحریر:سید ضیا آغا
چمن، پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ایک اسٹریٹیجک شہر ہے، جہاں گزشتہ برسوں میں کئی بار احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ چمن میں صحافی احمد ظاہر، بشر دوست، حبیب اللہ اور حضرت علی حیات پر 15 مئی 2024 کو ایف آئی آر درج کی گئی، جس کے تحت ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پریس کلب کے سامنے لوگوں کو اکٹھا کرکے پولیس اور ریاست کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔
احمد ظاہر چمن سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی ہیں، جنہوں نے 2020 میں جامعہ بلوچستان کے شعبہ صحافت میں گولڈ میڈل حاصل کیا اور اب بطور انڈیپینڈنٹ صحافی کام کر رہے ہیں۔ ان کے بقول مقدمات کا مقصد صحافیوں کو خوفزدہ کرنا اور چمن دھرنے کی کوریج سے روکنا تھا۔ احمد ظاہر شکوہ کرتے ہیں کہ چونکہ وہ چمن پریس کلب کے رکن نہیں ہیں، اس لیے دیگر صحافیوں نے ان کے لیے آواز بلند نہیں کی۔

چمن میں دھرنا 2024 جنوری سے جاری تھا،(کب تک جاری رہا) جب پاک افغان سرحد پر آمد و رفت کے لیے یکم نومبر 2023 سے پاسپورٹ کی شرط عائد کی گئی۔ اس سے قبل مقامی اور افغان شہری پاکستانی شناختی کارڈ یا تذکرہ کے ذریعے سرحد عبور کر سکتے تھے۔ دھرنے کے دوران تین مرتبہ نیم فوجی دستوں نے کریک ڈاؤن کیا، جس کے نتیجے میں تین مظاہرین ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔احتجاج کے دوران میڈیا بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا، جس کا مطلب یہ تھا کہ مقامی اور قومی میڈیا پر دھرنے کی کوریج پر غیر رسمی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جانب سے جاری پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق پاکستان 2024 میں دو درجے تنزلی کے بعد 152 ویں نمبر پر آچکا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق نومبر 2023 سے اگست 2024 کے دوران صحافیوں کے خلاف 57 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں دھمکیاں، حملے اور قانونی ہراسانی شامل ہیں۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے صحافی ندیم خان کے مطابق انہوں نے چمن دھرنے کی کوریج غیر ملکی میڈیا کے لیے بھی کی، باوجود اس کے کہ مقامی میڈیا بلیک آؤٹ تھا۔ ندیم خان کہتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات مخدوش ہیں، اور یہاں بلوچ اور مذہبی عسکریت پسند دو دہائیوں سے حملے کرتے آرہے ہیں۔ ایسے حالات میں معلومات تک رسائی مشکل ہے، جس کی وجہ سے آزاد صحافت پر دباو بڑھ جاتا ہے۔

بشر دوست نے دعویٰ کیا کہ انہیں دھمکیاں ملی تھیں کہ دھرنے کی کوریج بند کریں۔ انہوں نے سوال اٹھایا، “کیا
مظلوموں کی آواز بننا جرم ہے؟
چمن کے انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل نجیب خان کے مطابق صحافیوں پر ایف آئی آر بلوچستان حکومت کے حکم اور وزارت داخلہ کے جوڈیشل سیکشن کی منظوری سے درج کی گئی۔ یہ کیسز کوئٹہ کی عدالت میں زیر سماعت ہیں، مگر چاروں صحافی ضمانت پر ہیں اور ابھی تک گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
نجیب خان کے مطابق ایف آئی آر میں دفعہ 124 الف، جو بغاوت کی دفعہ ہے، بھی شامل ہے اور اس کی سزا عمر قید ہے۔ مقدمات من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہیں اور آزاد صحافت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ پولیس کی تاخیر کی وجہ سے مقدمات کی صرف چار پیشیاں ہو سکیں۔ وکیل کے مطابق مقدمے کا چالان مہینوں بعد پیش کیا گیا اور مقدمات کی سماعتیں جاری ہیں۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات آزاد صحافت کی رکاوٹ ہیں، اور قانون صحافیوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ آزاد صحافت معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور اس طرح کے مقدمات قائم نہیں ہونے چاہئیں۔

فی الحال، صحافی اب بھی ایف آئی آرز کے اثرات بھگت رہے ہیں، اور موجودہ سرحدی احتجاج کے دوران بھی ان کی رپورٹنگ پر دباو قائم ہے۔ مقامی، قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی کوریج میں واضح فرق رہا، اور بین الاقوامی رپورٹرز نے زیادہ آزادانہ انداز میں حالات کی عکاسی کی ہے۔
اس دوران سرکاری حکام نے اس واقعے پر موقف دینے سے گریز کیا اور ابھی تک کوئی وضاحت یا سرکاری ورژن جاری نہیں کیا گیا۔
