ہرنائی سبی روڈ منصوبے کی فزیبلٹی میں تاخیر پر بلوچستان ہائی کورٹ برہم، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو اور ممبر این ایچ اے ذاتی حیثیت میں طلب


کوئٹہ (ڈیلی قدرت نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ میں ہرنائی تا سبی روڈ منصوبے سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت ہوئی جس میں فزیبلٹی اور ڈیزائن مکمل نہ ہونے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے؛ چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے منصوبے کی پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہرنائی تا سبی روڈ (براستہ سپن تنگی) منصوبہ تاحال فزیبلٹی اور تکنیکی امور مکمل نہ ہونے کے باعث تعطل کا شکار ہے، عدالت نے حکم دیا کہ منصوبے کی مکمل فزیبلٹی رپورٹ، ڈرائنگ اور نقشہ جات آئندہ سماعت پر ہر صورت پیش کیے جائیں؛ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 20 مئی 2024 کے خط کے باوجود سی اینڈ ڈبلیو (C&W) ڈیپارٹمنٹ نے ضروری اقدامات مکمل نہیں کیے اور صوبائی حکومت کی تاخیر کے باعث نظرثانی شدہ پی سی ون (PC-I) حتمی شکل نہیں پا سکا، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ پہلے بھی احکامات جاری ہوئے مگر ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟ بینچ نے خبردار کیا کہ اگر رواں مالی سال میں منصوبہ پیش نہ ہوا تو اسے پی ایس ڈی پی (PSDP) میں شامل کرنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ اگلے مالی سال کے لیے پی سی ون جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 مارچ 2026 ہے؛ عدالت عالیہ نے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے جبکہ ممبر این ایچ اے (NHA) بلوچستان کو بھی آئندہ کارروائی کے لیے عدالت میں حاضر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے؛ عدالت نے مزید حکم دیا کہ احکامات کی نقول ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر کو ارسال کی جائیں تاکہ عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے، کیس کی مزید سماعت 12 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

WhatsApp
Get Alert