ہماری پہلی پہچان پاکستانی ہے، ریاست کے پیسے سے ریاست مخالف سرگرمیاں نہیں ہونے دیں گے، کوئٹہ میں ‘ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر’ فعال، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا اسمبلی میں خطاب


(ڈیلی قدرت کوئٹہ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ہماری پہچان سب سے پہلے پاکستانی ہے، اس کے بعد ہم بلوچ یا کچھ اور ہوں گے؛ ریاست ہر صورت اپنے شہریوں کا تحفظ کرے گی اور اس مقصد کے لیے کوئٹہ میں ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر فعال کر دیا گیا ہے جہاں زیرِ حراست افراد کو اہل خانہ سے ملاقات سمیت ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے؛ انہوں نے خبردار کیا کہ ریاست کے پیسوں سے ریاست مخالف سرگرمیاں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی، بلوچستان کے نوجوانوں کو یونیورسٹیوں سے نکال کر خودکش بمبار بنانا کون سی خدمت ہے؟ بیرونِ ملک بیٹھے منظم گروہ نوجوانوں کو دہشت گردی کی جانب راغب کر رہے ہیں؛ وزیراعلیٰ کا یہ خطاب نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے پوائنٹ آف آرڈر کے جواب میں تھا جنہوں نے پسنی فش ہاربر کے اداروں کو ختم کرنے کے بجائے فعال بنانے اور مادری زبانوں کی اکیڈمیوں کے بورڈز میں محکمہ خزانہ کے افسران کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا؛ ڈاکٹر مالک بلوچ نے انکشاف کیا کہ ایک ہفتے میں نیشنل پارٹی کے 4 سے 5 کارکنوں کو جھاؤ، گشکور اور کوگدان میں شہید کیا گیا جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت نقصان اٹھایا ہے اور پورا ایوان پنجگور و تربت کے واقعات کی مذمت کرتا ہے؛ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت مادری زبانوں کی ترویج چاہتی ہے لیکن اکیڈمیز کی آڈٹ رپورٹ میں کچھ چیزیں سامنے آئی ہیں، ہم صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ بلوچی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف نہ اکسایا جائے اور نہ ہی سرکاری رقم ریاست کے خلاف استعمال ہو؛ وزیراعلیٰ نے حکومتی کفایت شعاری پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال 14 ارب روپے کی بچت کی گئی، ایک ارب کے اخبارات بند کیے گئے اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی 435 خالی آسامیاں ختم کر کے متعلقہ محکموں کو بھیج دی گئی ہیں، جبکہ سرکاری ملازمین کے لیے 12 ارب روپے کی ہیلتھ انشورنس اسکیم شروع کی گئی ہے جس سے حکومت کو 6 ارب کی اضافی بچت ہو رہی ہے۔
لاپتہ افراد (Missing Persons) کے پیچیدہ مسئلے پر بات کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر قائم کر رہے ہیں؛ انہوں نے واضح کیا کہ خود ساختہ اور جبری گمشدگی میں فرق ہے، حکومت نے قانون منظور کیا ہے کہ کسی کو بھی حراست میں لینے کے بعد 12 گھنٹے کے اندر اہل خانہ کو بتایا جائے گا، مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور 3 ماہ کی حراست کے دوران ہر ہفتے ملاقات کروائی جائے گی، جبکہ حراست میں توسیع ہائی کورٹ سے لی جائے گی اور اس کا انچارج سویلین ایس پی ہوگا؛ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ میں خود جنگ کا متاثرہ ہوں، میرے 300 لوگ شہید ہوئے ہیں اور میں خود بھی ماضی میں مسنگ پرسن رہ چکا ہوں؛ بشیر زیب جیسے لوگوں نے اپنی کارروائیوں سے 190 بلوچ مروا دیے، ہم نوجوانوں کے لیے ہاورڈ جیسے عالمی اداروں کے دروازے کھول رہے ہیں جبکہ وہ انہیں خودکش بمبار بنا رہے ہیں؛ وزیراعلیٰ نے مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بات چیت سے تنازع حل کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں، لیکن بندوق کی نوک پر کوئی مطالبہ تسلیم نہیں ہوگا، حکومت ہر حد تک شہریوں کا تحفظ اور گورننس کو بہتر بنائے گی؛ بعد ازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل 7 اپریل 2026 تک ملتوی کر دیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert