پاکستان کی ایک سیاسی چال اور بٹ کوائن کی قیمت آسمان پر! حیران کن حقیقت سامنے

کراچی 0قدرت روزنامہ)عالمی مارکیٹ میں ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت بڑے اضافے کے بعد 71,430 ڈالر تک پہنچ گئی جوکہ کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی امریکہ اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی ہے جس نے مشرق وسطیٰ میں بڑے تنازع کے خدشات کو کم کر دیا اور رسک اثاثوں میں تیزی لے آئی۔
یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی فضائی حملوں میں دو ہفتوں کے وقفے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس پیش رفت کا کریڈٹ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو دیا جنہوں نے 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ اس اعلان کے بعد مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر بہتری آئی اور بٹ کوائن منگل کی رات 68,700 ڈالر سے بڑھ کر اوپر چلا گیا۔
بلومبرگ انٹیلیجنس کے سینئر اسٹریٹجسٹ نے کہا کہ کرپٹو اس وقت ایک ہائی بیٹا اثاثے کی طرح کام کر رہا ہے یہ جغرافیائی سیاسی خطرات میں کمی پر ایکویٹیز کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ردعمل دے رہا ہے۔ان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کم ہوا ہے جو ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ٹریڈنگ والیوم 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
اعلان سے پہلے بھی بٹ کوائن کی قیمت 69,000 ڈالر تک پہنچ گئی تھی کیونکہ کسی معاہدے کی قیاس آرائیاں جاری تھیں جو ایران کے ساتھ کشیدگی کے عروج پر 68,000 ڈالر تھی۔ پاکستان کی 10 نکاتی تجویز جس میں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے وعدے شامل تھے نے توانائی کی مارکیٹس کو پرسکون کیا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ اگر امریکہ حملے روک دیتا ہے تو تہران جوابی کارروائی معطل کر دے گا اور اگر ایسا ہوا تو یہ وسیع پیمانے پر کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی ایکویٹی فیوچرز میں 1.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جغرافیائی سیاسی سکون مختلف اثاثہ کلاسز میں رسک لینے کے رجحان کو بڑھا رہا ہے۔
