اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ پولیس کی بدمعاشی کا بہانہ بن گیا، جناح ٹاؤن تھانے کے عملے کا شہریوں اور تاجروں سے بدتمیزی معمول بن گئی ‘ شہریوں کا حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ بعض پولیس اہلکاروں کے لیے شہریوں اور تاجروں کو تنگ کرنے کا بہانہ بن گیا ہے، شہر کے مختلف علاقوں بالخصوص جناح ٹاؤن تھانے کی حدود میں پسند و ناپسند کی بنیاد پر دکانیں بند کرانے، شہریوں سے بدتمیزی، گالم گلوچ اور گرفتاریوں کا سلسلہ معمول بنتا جا رہا ہے جس پر مقامی تاجروں اور شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاجروں کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر قانون کا یکساں اطلاق نہیں کیا جا رہا، بعض دکانوں کو وقت سے پہلے بند کرایا جاتا ہے جبکہ بااثر افراد کی دکانیں رات بارہ بجے تک کھلی رہتی ہیں جن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ جب پولیس اہلکاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ دیگر دکانیں کیوں کھلی ہیں تو جواب دیا جاتا ہے کہ ’’وہ تمہارا مسئلہ نہیں‘‘، اس رویے نے کاروباری طبقے کو سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہریوں اور دکانداروں نے شکوہ کیا کہ جناح ٹاؤن تھانے کے عملے کا نان پروفیشنل رویہ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے، بزرگ شہریوں، دکانداروں اور عام لوگوں کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ہے اور معمولی بات پر گالم گلوچ یا گرفتاری کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی احکامات اور قانون کی پاسداری کے حق میں ہیں لیکن قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، پسند ناپسند کی بنیاد پر کارروائیاں نہ صرف تاجروں کا معاشی استحصال ہیں بلکہ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ متاثرہ تاجروں نے ڈی آئی جی کوئٹہ، ایس ایس پی آپریشنز اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جناح ٹاؤن تھانے کے عملے کے رویے کا فوری نوٹس لیا جائے، اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے لیے واضح اور یکساں پالیسی پر عملدرآمد کرایا جائے اور شہریوں و تاجروں کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کرنے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے تاکہ کاروباری طبقے کو بلاجواز تنگ کرنے کا سلسلہ بند ہو سکے۔
