ایک لائن ’آف‘ تو دوسری ’آن‘ کا چکر ختم، ایک ہفتے میں بجلی کے ڈبل سورس کنکشن کاٹنے کا حکم

ایک ہی جگہ پر دو مختلف فیڈرز یا سورسز سے بجلی لینا انتہائی خطرناک ہے، تمام سرکاری کالونیوں اور افسران کے گھروں کے میٹرز چیک کیے جائیں گے، عام رہائشی و تجارتی علاقوں میں بھی چیکنگ ہوگی؛ لیسکو حکام


لاہور(قدرت روزنامہ)لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے لائن مین کے ہونیوالے حالیہ حادثے کے بعد بجلی کے ڈبل سورس کنکشنز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کیا ہے، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اس حوالے سے انتہائی سخت احکامات جاری کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق لیسکو نے انسانی جانوں کو لاحق شدید خطرات کے پیشِ نظر بجلی کے غیر قانونی اور خطرناک ڈبل سورس کنکشنز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا باقاعدہ فیصلہ کیا ہے، سی ای او لیسکو نے ہنگامی احکامات جاری کرتے ہوئے فیلڈ سٹاف کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیا ہے کہ شہر بھر سے ایسے تمام کنکشنز کو فوری طور پر کاٹ دیا جائے، یہ آپریشن بلا امتیاز کیا جائے گا۔
لیسکو حکام نے بتایا ہے کہ کریک ڈاؤن کے دوران تمام سرکاری کالونیوں اور افسران کے گھروں کے بجلی کے میٹرز چیک کیے جائیں گے، عام رہائشی اور تجارتی علاقوں میں بھی چیکنگ ہوگی کیوں کہ ڈبل سورس کنکشن یعنی ایک ہی جگہ پر دو مختلف فیڈرز یا سورسز سے بجلی لینا تکنیکی طور پر انتہائی خطرناک ہے اور یہ معصوم شہریوں اور لائن سٹاف کی زندگیوں کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے، حالیہ دنوں میں لاہور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں اسی طرح کے ایک غیر قانونی ڈبل سورس کنکشن کی وجہ سے لیسکو کا ایک لائن مین حادثے کا شکار ہوا تھا۔
سی ای او لیسکو نے واضح پالیسی جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ اگر کسی بھی علاقے میں ڈبل سورس کنکشن کی موجودگی کی وجہ سے کوئی جانی نقصان یا حادثہ پیش آیا، تو اس علاقے کے متعلقہ ایکسیئن اور ایس ڈی او کے خلاف سخت ترین محکمانہ کارروائی کی جائے گی، جس میں نوکری سے برخاستگی بھی شامل ہے، اس مہم میں کسی کی سفارش یا سیاسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا، کوئی بھی بااثر شخصیت، تگڑا سیاستدان یا اعلیٰ سرکاری افسر ڈبل سورس کنکشن استعمال کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔
معلوم ہوا ہے کہ قانون کے دائرے سے صرف ان مخصوص اور حساس مقامات کو الگ رکھا گیا ہے جہاں بجلی کی ہر وقت فراہمی قومی سکیورٹی یا انسانی زندگیوں کے لیے ناگزیر ہے، ان میں بڑے سرکاری ہسپتال، گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس و دیگر ایسے مقامات شامل ہیں، جن کو خودمختار فیڈرز کے تحت ڈبل سورس رکھنے کی ایک محدود اور قانونی اجازت حاصل ہوگی تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں متبادل بجلی فراہم کی جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert