ریکوڈک کے ماضی کے مقابلے میں اب ملنے والے شیئر ز اچھے خاصے ہوں گے، میر عبد القدوس بزنجو

چاغی(قدرت روزنامہ) وزیر اعلی بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو نے کہا ہے کہ ریکوڈک کے ماضی کے مقابلے میں اب ملنے والے شیئر ز اچھے خاصے ہوں گے، سیاسی باتیں کرنا آسان ہے مگر عملی طور پر کام کرنا مشکل ہوا کرتا ہے ہم بلوچستان کے کسی بھی معاملے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے . ان خیا لا ت کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز دالبندین میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا .

اس موقع پر گورنر lبلوچستان ظہورآحمد آغا،چیف سیکرٹری،کمشنر رخشان ڈویثرن سیف اللہ کھیتران،ڈپٹی کمشنر چاغی منصور آحمد،ایس پی چاغی حاجی محمد انور بادینی،ودیگر بھی موجود تھے . وزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھاکہ ہماری حکومت کو ریکوڈک کے حوالے سے ٹف ٹائم ملا ہے اس سلسلے میں میٹنگز اسلام آباد میں تسلسل سے جا ری ہیں انہوں نے کہا کہ ہم انٹرنیشنل سطح پرریکوڈک کا مقدمہ ہار چکے تھے مگر اس کے باوجود بلوچستان کے لوگوں کویقین دہلا تے ہیں کہ انہیں مایوس نہیں ہونے دیں گے کوشش ہے بلوچستان کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ شیئرز ملے ریکوڈک کے معاملے پر تمام الیکٹڈعوامی نمائندوں کو بریفنگ دی ہے اور ریکوڈک سے متعلق تمام معاملات ان کے سامنے رکھ دئیے ہیں کچھ دنوں میں فیکٹ اور فگر کے ساتھ تمام چیزیں سامنے آجائیگیانہوں نے کہا کہ اس سے قبل ریکوڈک میں صو بہ بلو چستان کے شیئرز پچیس فیصدتھے جس میں بلوچستانحکومت کا سر ما یہ کا ری بھی شامل تھی،انہوں نے کہا کہ وکیل بھی ہمارا تھا اسکے باوجود ہم کیس ہار گئے اب انشا اللہ جو شیئرز ہم لینگے وہ ااچھے خاصے ہو ں گے انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی باتیں کرنا آسان ہے مگر عملی طور پر کام کرنا مشکل ہے میری حکومت بلوچستان کے کسی بھی معاملے پر پیچھے نہیں ہٹے گیانہوں نے کہا کہ ہم نے یہ شرط رکھ دی ہے کہ جو بھی کمپنی ریکوڈک میں کا م کرے گی اسے تیس سے چالیس ارب روپے مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کر نا ہوں گے سی ایس آر کی مد میں بھی فنڈ شامل ہوگا انہوں نے مزید کہا ہماری حکومت آتے ہی بلوچستان بھر کے تمام چیک پوسٹیں ختم کردی گئی ہیں اگر کسی بھی چیک پوسٹ سے بھتہ خوری کی شکایت موصول ہوئی تومتعلقہ آفیسران خود کو معطل سمجھے انہوں نے کہا کہ ہم نے نیشنل ہائی وے پر تمام اسپیڈ بریکرز کا بھی خاتمہ کیا جا چکا ہے جن کی وجہ سے آئے روز حادثات رونما ہوتے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا گزشتہ ڈیڑھ سال سے ڈی ایچ کیو ہسپتال دالبندین کو ادویات نہیں ملی ہے ہم نے دالبندین ہسپتال کی ادویات کا کوٹہ بڑھا دیا ہے اور اب مقامی سطح پر ادویات کا اختیار ڈی ایچ اوز کو دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ دالبندین ہسپتال میں آپریشن تھیٹر کو بھی فعال کیا جائے گا انہوں نے مزید کہا ہماری حکومت بیروزگارنوجوانوں کو روزگار دلانے کیلئے خالی اسامیوں کو جلد پر کرے گی تاکہ نوجوانوں کے ذہنوں سے بے روزگاری کی پریشانی ختم ہو میرٹ کی بنیاد پر خالی آسامیوں کو پر کرنا ہماری اولین ترجیح ہے آخر میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کمشنر رخشان ڈویژن کو ہدایت کی دالبندین پریس کلب کا پی سی ون بنا کر ہمیں ارسال کرے انشا اللہ دالبندین پریس کلب کی بلڈنگ بھی تعمیر کی جائے گی .

. .
Ad
متعلقہ خبریں