زیارت جونیپر خطرے میں

رپورٹ: محمد ناصر شاہوانی

صنوبر کا یہ جنگل اپنی انوکھی حیثیت رکھتا ہے اور یہ اپنی قسم کا دوسرا سب سے بڑا جنگل ہے . یہاں کے درخت دنیا کے قدیم ترین پیڑوں میں شمار ہوتے ہیں .

اس کا سبب ان کا سست رفتاری سے بڑھنا اور زیادہ دنوں تک زندہ رہنا بتایا جاتا ہے .

زیارت کے رہائشی عبدالرزاق بتاتے ہیں "کہ زیارت میں لوگ جونیپر درخت کاٹنے پر مجبور ہیں جسکی اصل وجہ علاقے میں ٹھنڈ کا ذیادہ ہونا اور گیس کا نہ ہونا ہے . "

2017 کی مردم شماری کے تحت ضلع کی کل آبادی ایک لاکھ ساٹھ ہزار ہے . اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی ویب سائٹ کے مطابق ایک لاکھ دس ہزار ایکٹر پر مشتمل زیارت جونیپر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا صنوبر کا جنگل ہے . یہاں ایک مکمل تن آور درخت کی عمر تین ہزار سال سے زائد ہے . یہ دنیا کا سب سے سست روری سے بڑھنے والا درخت ہے جو کہ سو سال میں ایک سے تین انچ تک بڑھتا ہے . یونیسکو نے 2013 میں اسے حیاتیاتی ذخیرہ قرار دیا ہے . گے

زیارت کے ایک سماجی کارکن اور صنوبر کے جنگلات کی دیکھ بھال کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ کام کرنے والے محمود ترین بتاتے ہیں کہ ہر سال زیارت میں دو سے تین ہزار درخت لگاتے ہیں .

انہوں نے بتایا کہ صنوبر کے درخت کوئٹہ، لورالائی اور قلات میں بھی پائے جاتے ہیں . ’یہ بہت دیر سے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بہت نایاب ہیں جس کی شجر کاری نہیں کی جاسکتی . یہ قدرتی طور پر پیدا ہو کر ارتقائی مراحل سے گزرنے والا درخت ہے . ‘

ارتقائی عمل کا تذکرہ کرتے ہوئے محمود ترین نے بتایا کہ صنوبر کا بیج جسے مقامی زبان پشتو میں (اوبوشتی) کہا جاتا ہے تب ہی درخت پیدائش کر سکتا ہے کہ جب کوئی پرندہ اس بیج کو کھا کہ فضلے کی شکل میں خارج کر دے . ’وہی فضلہ صنوبر کے درخت کا بیج ہوتا ہے لیکن پرندے کا کھا کہ فضلے کی شکل میں خارج کرنا لازمی ہے . اس قدرتی عمل کے دوران اکثر مال مویشی بیج کو یا صنوبر کے چھوٹے پودوں کو نقصان پہنچاتے ہیں . زیارت کے لوگ کسی بھی جگہ پر جا کر مال مویشیوں کے لیے چراہ گاہیں بنا لیتے ہیں حالانکہ ایسا کرنا درست نہیں . محکمہ جنگلات کو چاہیے کہ وہ چراہ گاہوں کے لیے ایسی جگہ کا تعین کرے جہاں صنوبر کے پودے ابتدائی مراحل میں نہ ہوں . ‘

محکمہ جنگلات کے چیف کنزرویٹر برائے شمال عبدالجبار نے بتایا کہ ان قیمتی درختوں کی کٹائی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں چند ایک مشکلات تو ضرور ہیں لیکن سوشل میڈیا کے اس دور میں کوئی بھی تصاویر اپلوڈ کر سکتا ہے جس کی وجہ سے افسران کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرتے . ’سپریم اور ہائی کورٹ کے چیف جسسٹس صاحبان جنگلات کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ہیں اور اسی ضمن میں چیف جسٹس نے ازخود نوٹس بھی لیا تھا . ‘

انہوں نے مزید بتایا کہ جسسٹس قاضی فائز عیسی نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ ملزم پر 5000 روپے کا جرمانہ عائد کرنا کافی کم ہے لہذا کاٹے گئے فی درخت پر 5000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے .

عبدالجبار قانون کا تذکرہ ہوئے کہنے لگیں کہ محکمہ نے وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے قانون کا مسودہ تیار کر رکھا ہے جو کہ اس وقت محکمہ قانون کے پاس ہے اور بہت ہی جلد اسمبلی سے بھی پاس کر لیا جائے گا .

. .
Ad
متعلقہ خبریں