سنٹرل کنٹریکٹس کا معاملہ، پی سی بی اور سینئر کھلاڑیوں میں ٹھن گئی

لاہور (قدرت روزنامہ) پاکستان کے کپتان بابر اعظم سمیت کئی سینئر کھلاڑی مبینہ طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پیش کردہ سینٹرل کنٹریکٹ کی شرائط سے ناخوش ہیں . ذرائع کے مطابق کھلاڑی نہ صرف پیشکش پر تنخواہوں سے ناخوش ہیں بلکہ معاہدوں کی کچھ شرائط کے حوالے سے بھی خدشات ہیں .

مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کپتان بابر اعظم کو 2022-23ء کے مالی سال کے سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے مشاورتی عمل سے روک دیا گیا تھا .
ذرائع کے مطابق بعض کھلاڑیوں نے سینٹرل کنٹریکٹ مسترد کرنے کے امکان پر مشاورت شروع کردی ہے . جمعہ کو پی سی بی کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ مالی سال 2022-23ء کے سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کی تنخواہوں اور کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا .

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذخائر اس وقت تاریخی بلندی پر ہیں .

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ ’’2022-23ء سیزن کے لیے دو طرفہ ہوم سیریز کے لیے شراکت داری کے حقوق میں 77 فیصد اضافہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے بڑی خوشخبری ہے، ہمارے ذخائر تاریخی بلندی پر ہیں، انہوں نے مزید لکھا تھا کہ ’ہم ان فنڈز کا کچھ حصہ شائقین کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے استعمال کریں گے . سب سے پہلے پنڈی اور کراچی کے سٹیڈیم میں جدید ترین کرسیاں ہوں گی‘‘ .

. .
Ad
متعلقہ خبریں