شیریں مزاری کی گرفتاری کا ٹی وی سے پتا چلا سن کر خوشی نہیں ہوئی، مریم نواز

لاہور (قدرت روزنامہ) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ شیریں مزاری کی گرفتاری کا ٹی وی سے پتا چلا سن کر خوشی نہیں ہوئی، پی ٹی آئی اس پر عورت کارڈ کھیل رہی ہے، شیریں مزاری پر مقدمہ درج ہوا، لیکن مجھ پر تو کوئی الزام بھی نہیں تھا، انہیں خواتین اہلکاروں نے جبکہ مجھے مرد اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا، کیس بھی رجسٹرڈ نہیں تھا .
انہوں نے سوشل میڈیا ٹیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت نے 4 سال میں انتقام انتقام کے علاوہ میں نے کچھ نہیں سنی، ملک اس وقت نازک صورت حال سے گزر رہی ہے، شہبازشریف نے دن رات محنت کرکے پنجاب کی تقدیر بدل دی .

انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتا ہے کہ عمران خان نے کہا شہبازشریف7 بجے اٹھتا ہے تو میرا مالی بھی6 بجے اٹھتا ہے، ان کو تیل کی قیمت بڑھانے سے ڈر لگتا ہے، ہاں نوازشریف اور شہبازشریف پیٹرول کی قیمت بڑھانے سے ڈرتے ہیں، اس لیے ڈرتے ہیں کہ قیمت بڑھانے سےغریب عوام کے مسائل میں اضافہ ہوگا .

انہوں نے کہا کہ مجھے ٹی وی سے پتہ چلا شیریں مزاری گرفتار ہوئی ہیں، شیریں مزاری کی گرفتاری کا سن کر خوشی نہیں ہوئی، شیریں مزاری پر مقدمہ ان کی اپنی بزدار حکومت میں درج ہوا، پی ٹی آئی اس معاملے پر عورت کارڈ کھیل رہی ہے، یہ کبھی عورت کارڈ پر تو آئیں ہی نا، جب مجھے گرفتار کیا گیا تو مجھ پر کوئی الزام نہیں تھا، نوازشریف کوٹ لکھ پت جیل میں تھے تو ان سے ملاقات کیلئے بچوں کے ساتھ گئی، ہم ملاقات کیلئے پہنچے تو جیلر نے آ کر کہا شہبازشریف آپ کو باہر بلا رہے ہیں، میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ باہر کیوں بلا رہے ہیں، باہر گئی تو مجھے کہا گیا کہ نیب کی ٹیم آپ کو گرفتار کرنے آئی ہے، میں اپنے والد سے ملنے گئی اور انہیں بتایا وہ خاموش رہیں .
مجھے ڈیتھ سیل میں رکھا گیا، میرے خلاف بننے والا مقدمہ آج تک کسی کورٹ میں رجسٹر نہیں ہے، مجھ سے تفتیش میں پوچھا جاتا تھا کہ آپ کون سی کتاب پڑھ رہی ہیں، میں نے کبھی مظلومیت اور عورت کارڈ نہیں کھیلا . انہوں نے کہا کہ یہ آج تک میرے خلاف کوئی مقدمہ ثابت نہیں کر سکے، شیریں مزاری کو خواتین نے گرفتار کیا ہے، مجھے دو بار گرفتار کیا گیا اور دونوں بار مرد اہلکار گرفتاری کیلئے آئے، ڈی جی نیب اندھیرے میں چھپ کر کھڑے رہے، ڈی جی نیب نے رات 12 بجے پولیس اہلکاروں کو میری گرفتاری کیلئے بھجوا دیا، میں یہ سب گفتگو نہیں کرنا چاہتی، وقت آنے پر بات کروں گی، اگرمیں نے زبان کھولی تو بات بہت دور تک جائے گی .

. .
Ad
متعلقہ خبریں