صدر ایف اے ٹی ایف مارکس پلیئر نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے سے متعلق بڑا اعلان کر دیا

برلن/اسلام آباد (قدرت روزنامہ)فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل کر لیا ہے، پاکستان کو ابھی گرے لسٹ نہیں نکالا جارہاہے،ایف اے ٹی ایف کورونا صورتحال کا جائزہ لے کر جلد پاکستان

کو دورہ کرے گا جس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کیا جائے گا، اصلاحات پاکستان کی سلامتی اور استحکام کیلئے اچھا ہے . ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے جرمنی کے شہر برلن میں شروع ہونے والے چار روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاک ہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 علیحدہ ایکشن پلانز کی تمام شرائط پوری کرلی ہیں تاہم پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالا جارہا ہے .

انہوں نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف کورونا صورتحال کا جائزہ لے کر جلد از جلد پاکستان کو دورہ کرے گا جس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کیا جائے گا . مارکس پلیئر نے پاکستان کی جانب سے کی گئی اصلاحات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے اچھا ہے . انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنڈنگ پر مؤثر طریقے سے قابو پالیا ہے . ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کیے گئے دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنما اور کمانڈرز کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کی تحقیقات میں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے ساتھ منی لانڈرنگ کی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی میں مثبت رجحان دیکھا گیا ہے . ایف اے ٹی ایف نے بتایا کہ پاکستان نے 2021 کے ایکشن پلان پر 2021 میں وقت سے قبل ہی عمل کر لیا تھا .

ایف اے ٹی ایف کے 206 ارکان اور مبصرین کی نمائندگی کرنے والے مندوبین مکمل اجلاس میں شرکت کی، مبصرین میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور ایگمونٹ گروپ آف فنانشل انٹیلی جنس یونٹس شامل تھے . ایف اے ٹی ایف کے اس اعلان پر کہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل کر لیا ہے رد عمل دیتے ہوئے پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے

قوم کو مبارکباد دی ہے . سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کو مبارک ہو کہ ایف اے ٹی ایف نے دونوں ایکشن پلان کو مکمل قرار دیا ہے . وزیر مملکت نے کہا کہ عالمی برادری نے متفقہ طور پر ہماری کوششوں اور کاوشوں کو تسلیم کیا ہے، ہماری یہ کامیابی 4 سال کے ہمارے مشکل اور چیلنجنگ سفر کا ثمر ہے . حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان اس کامیابی کے سفر کو جاری رکھنے اور

اپنی معیشت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے . وزیر مملکت نے اس کامیابی پر ایف اے ٹی ایف کے نکات پر کام کرنے والی پاکستان کی ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا . انہوں نے کہاکہ فیٹف نے پاکستان کو تمام نکات پر کلیئر کردیا ہے جس کے بعد فیٹف پروسیجر کے تحت پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہوچکا ہے، توقع ہے اکتوبر تک گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل مکمل ہوجائے گا . انہوں نے کہا کہ اب فیٹف

پروسیجر کے مطابق ایک تکنیکی جائزہ ٹیم پاکستان بھیجی جائے گی، ہماری پوری کوشش ہوگی کہ یہ ٹیم اکتوبر 2022 کے فیٹف پلینری سائیکل سے پہلے اپنا کام مکمل کرے اور ہم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا . حنا ربانی کھر نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی اکتوبر 2022 میں ہمارا فیٹف گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل اختتام کو پہنچے گا . سفارتی ذرائع نے اس سے قبل بتایا تھا کہ چین اور کچھ دیگر اتحادی

خاموشی سے پاکستان کو تازہ ترین اجلاس کے دوران گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے سرگرم ہیں اور اس حوالے سے کام کر رہے ہیں . بین الاقوامی میڈیا کی حالیہ رپورٹس میں بھی اس خاموش لابنگ کا ذکر کیا گیا ہے جس کی قیادت چین کر رہا ہے اور ایک بھارتی خبر رساں ادارے نے اطلاع دی ہے کہ اجلاس میں ممکنہ طور پر پاکستان کو ان ممالک کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا جائے گا جو زیر نگرانی ہیں، جسے عام طور پر گرے لسٹ کہا جاتا

ہے . پاکستان تحریک انصاف سمیت مختلف جماعتوں کے سیاستدانوں اور صحافیوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا ہے تاہم برلن میں پاکستانی وفد کی قیادت کرنے والی وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے خبردار کیا کہ نتائج کے بارے میں متعصب اور قیاس آرائی پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جانا چاہیے . انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے (آج) ہفتہ کو وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس

کی جائے گی . وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی ان کے اس بیان کی توثیق کی . حکومت کے ایک ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس وقت دستیاب معلومات کے مطابق نتیجہ پاکستان کے حق میں آنے کی توقع ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ملک کو فہرست سے نکال دیا گیا تو بھی معاملات طے کرنے میں 7 سے 8 ماہ لگیں گے . ترجمان نے کہا کہ اگر پاکستان فہرست سے نکلتا ہے تو ایف اے ٹی ایف کی ٹیم ملک کا

دورہ کریگی تاکہ وہ اپنا اطمینان کر سکے کہ اس کی سفارشات پر کام مکمل ہوگیا ہے . یاد رہے کہ پاکستان جون 2018 سے گرے لسٹ میں ہے . مارچ میں پیرس میں منعقد ہونے والی اپنی آخری پلینری میں ایف اے ٹی ایف نے نوٹ کیا تھا کہ پاکستان نے اپنے 2018 کے ایکشن پلان میں 27 میں سے 26 کو مکمل کر لیا ہے، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ’جلد سے جلد‘ ایک باقی ماندہ شے پر توجہ دے جو دہشت گردی کی مالی

معاونت کی تحقیقات اور اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنماؤں اور کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے ہے . ایف اے ٹی ایف نے تسلیم کیا کہ پاکستان کو منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے جون 2021 میں جن 7 ایکشن پلانز اور سفارشات پر عمل کرنے کو کہا گیا تھا ان میں سے بھی 6 کو پورا کر لیا گیا ہے . تازہ ترین پلینری سیشن کے لیے وزارت خارجہ نے ایک پریزنٹیشن تیار کی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ پاکستان نے کس طرح تمام 27 کام مکمل کیے جو اسے دیے گئے تھے .

. .
Ad
متعلقہ خبریں