آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے نتیجے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا امکان

کراچی(قدرت روزنامہ) کرنسی مارکیٹ کے ڈیلرز نے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے نتیجے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے . وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ایک یا دو دن کے اندر طے پا جائے گا .

چئیرمین فارکس ایسوسی ایشن پاکستان ملک بوستان نے مفتاح اسماعیل کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے بعد ڈالر کی قدر میں 5 روپے تک کی کمی دیکھی جا سکتی ہے .
سماء نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے سے ممکنہ معاہدے کی صورت میں فوری طور پر ڈالر 5 سے 10 روپے کم ہوجائے گا اور مزید بھی کمی آسکتی ہے لیکن اس کے لیے دوست ممالک کی جانب سے بھی ڈالر آنے سے فرق پڑے گا .

ملک بوستان نے بتایا کہ پاکستان نے چین، دبئی اور سعودی عرب سے سات ،سات ارب ڈالر مانگے ہیں جبکہ عالمی مالیاتی ادارے سے بھی سات ارب ڈالر آئیں گے،اس طرح اگلے دو برس میں پاکستان کے سسٹم میں 28 ارب ڈالر آسکتے ہیں .

عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی ڈالرمل سکتے ہیں جس سے ڈالر 190 روپے ڈالر تک گرسکتا ہے . ڈالر کو قابو کرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بینکوں کی امپورٹ کے لیے ایل سی بیرون ملک تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا جس سے یہ بحران آیا . پہلے صفر سے 10 فیصد پر تیل امپورٹ کیا جاسکتا تھا، نئی شرائط کے مطابق اگر آپ کو 1 لاکھ ڈالر کا تیل خریدنا ہے تو اس ہی دن وہ رقم جمع کروانا ہوگی،اس وقت روزانہ بینکوں کو 12 کروڑ ڈالر خرید کر جمع ہوتے ہیں .
اسٹیٹ بینک کا فرض ہے کہ دوست ممالک سے بات کرے اور انہیں کہے کہ 15 ہزار ملین ڈالر پاکستان کی ڈالر ذخائر موجود ہیں،پاکستان کا دیوالیہ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے . عالمی مالیاتی ادارے کی قسط ملنے سے کئی دیگر پروگرام وابستہ ہیں، پاکستان کی معیشت کے لیے یہ بہت اہم ہے اور یہ بحال ہوگئی تو روپیہ بہت ہونا شروع ہوجائے گا . اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمرشل بینکوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ لیٹر آف کریڈٹ کی سہولیات کے لیے پیشگی منظوری لی جائے . اسٹیٹ بینک کے اس اقدام سے مارکیٹوں میں ڈالر کی کمی سے متعلق افواہیں گرم ہو گئیں جس کی تردید اسٹیٹ بینک نے خود ہی کر دی . یہ افواہیں درست نہیں ہیں اور مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی کوئی کمی نہیں ہے .

. .
Ad
متعلقہ خبریں