عمران خان اپنی حدود میں رہو، ابھی ہم زندہ ہیں،عمران خان کو جیل میں ڈالا جائے، مولانا فضل الرحمان

بنوں (قدرت روزنامہ) پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ شہبازشریف غیر ضروری شرافت دکھا رہے ہیں، عمران خان کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالا جائے،عمران خان اپنی حدود میں رہیں، ہم زمین اتنی گرم کر دیں گے کہ یوتھیے پاؤں نہیں رکھ سکیں گے،

عمران نیازی کی اقتدار میں آنے کی خواہش پوری نہیں ہونے دیں گے . ان خیالات کا اظہار انہوں نے بنوں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا .

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جے یو آئی کے علما کی ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے، ہمیں بتایا جائے قاتل کون ہے، ورنہ قتل کی ذمہ داری ریاستی ادارے قبول کریں، دینی مدارس پر اداروں کا قبضہ ہے، مدارس کو دہشت گردی کا مرکز کہا جارہا ہے، اور پھر مدارس کے علما سے تعاون بھی لیا جارہاہے . انہوں نے کہا کہ پریشان کن صورتحال ہے، ادارے ملک کو مذاق نہ بنائیں اور اس میں اپنی سیاست نہ کریں، کیا ریاست چاہتی ہے کہ ہمارے نوجوان جذبات میں آکر بندوق اٹھالیں، علما ساتھ نہ کھڑے ہوتے تو فوج ملک کو نہیں بچاسکتی تھی، اس کے باوجود ہمیں سزا دی جارہی ہے . فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے اردگرد پاگل اور بے وقوف جمع ہیں جو ایک احمق کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، جس کیخلاف جہاد ہونا چاہیے وہ کہتا ہے ہم جہاد کررہے ہیں، ہم آپ کیلیے زمین اتنی گرم کردیں گے کہ یوتھیو کے گرم تلوے اس پر نہیں رکھے جاسکیں گے، تمہاری چھوٹی چھوٹی تتلیوں کے پر اس گرمی کو گرداشت نہیں کرسکیں گے، عمران خان تم حد میں رہو . ابھی جمعیت والے زندہ ہیں، شہری عمران خان کا ساتھ نہ دیں بلکہ میدان میں آکر ملک کی وفادار قوتوں کا ساتھ دیں . مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمر ان خان کو آرام سے ایک لمحہ بھی نہیں گزارنے دیں گے،

ہمیں پتہ ہے عمران خان کے پیچھے کونسی قوتیں ہیں، یہی فوج آپکو سپورٹ کر رہی تھی اور ہمیں اعتراض تھا، تب آپ کے نزدیک فوج اچھی تھی، آج جب جنرل نیوٹرل ہوگیا تو تم اسے جانور کہہ رہے ہو، ہم تمہارے ا?قاؤں کو جانتے ہیں، یہ بھی تمہیں ا?قا نے پڑھایا ہے کہ مجھے گالی دیا کرو پاکستان میں یہی سیاست چلتی ہے . انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف غیر ضروری شرافت دھکا رہے ہیں، میں نے حکومت کو کہا ہے کہ عمران خان کو جیل

میں ڈالا جائے، وزیر داخلہ حکیم رانا ثنا اللہ کو جگائیں اور انہیں حرکت میں لائیں ابھی بہت کیسز پڑے ہیں‘ . کیوں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ تاخیر کا شکار ہے . فضل الرحمان نے کہا کہ جو معاشی بحران چار سال میں پیدا کیا گیا، ہمیں کہا جا رہا کہ اسے چار دن میں ختم کرو، یہ قلیل مدتی حکومت ہے، اسے چاہیے طویل مدتی کی بجائے قلیل مدتی فیصلے کرے، میں نے عوامی مخالفت کے پہلو سے قیمتیں بڑھانے سے اختلاف کیا تھا، میں نے پہلی ہی

میٹنگ میں کہا تھا کہ ا?ئی ایم ایف سے بات مت کرو، نئی شرائط پر معاہدہ کرو، لیکن سب لوگوں کی دوسری رائے ا?گئی تو میں کیا کرسکتا ہوں، میں اور نواز شریف بھی بے بس ہوگئے . انہوں نے کہا حکومت کو آئی ایم ایف شرائط میں رکاوٹ ڈالنی چاہیے تھی، کرب کا شکار ہوں کہ کس طرح عام ا?دمی کو ریلیف دے سکیں . مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے مہنگائی کا احساس ہے، عام لوگوں کو ریلیف دینے کے لیے کام کر رہے ہیں . مولانا فضل الرحمان

کا کہنا تھا کہ ایک جج ان کے حق میں فیصلہ دیتا ہے، اس جج کا داماد الیکشن لڑ رہا ہے اور اس کی حمایت بھی کررہا ہے، اس کے سارے کیس وہ اپنے پاس بھی رکھنا چاہتا ہے، ایسا نہیں چلے گا، انصاف کی کرسی پر بیٹھا شخص انصاف کے تقاضے پورے کرتا نظر ا?نا چاہیے، ہم عدلیہ کو شک و شبہ سے بالاتر دیکھنا چاہتے ہیں جہاں ان کے فیصلوں پر کوئی اعتراض کرسکے . عمران خان ملک تباہ کرنے کے ایجنڈے پر آئے ہیں . ہم 2018ء کے

الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف کھڑے تھے . آج عمران خان کاغذ لہرا رہا ہے کہ سازش ہوئی ہے . مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نیب کے ذریعے لوگوں پر جھوٹے کیسز کیے گئے، ہم نے جو کہا تھا اس کے مطابق نتائج سامنے آرہے ہیں . انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی تحلیل ہوئی تو انتشار پیدا ہوگا . انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں، ہمارے مدارس میں دینی تعلیم دی جاتی ہے، عمران خان کی حکومت کا خاتمہ پاکستان کے لیے ناگزیر تھا، ہم نے ملک میں سیاسی استحکام کے لیے کام کیا . مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے سزائیں کاٹیں، ہم پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مہنگائی ہو رہی ہے .

. .
Ad
متعلقہ خبریں