مکہ مکرمہ میں جبلِ نُور کو قرآنی آیات سے منور کردیا گیا

مکہ مکرمہ (قدرت روزنامہ) مکہ مکرمہ میں جبلِ نُور کو قرآنی آیات سے منور کردیا گیا . العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پہاڑوں کے عالمی دن کے موقع پر مکہ مکرمہ میں جبل نور جسے کوہ حرا بھی کہا جاتا ہے جہاں موجود غار حرا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی، اسی جبل نور پر ایک روح پرور منظر دیکھنے کو ملا جس میں جبل نور پر قرآنی آیات کو روشن کیا گیا، یہ منظر پہاڑ کے دامن میں حرا کلچرل کالونی پروجیکٹ کا باضابطہ افتتاح قریب آنے پر دیکھنے کو ملا .


بتایا گیا ہے کہ رائل کمیشن برائے مقدس شہر مکہ و مقدس مقامات کی زیر نگرانی حرا کلچرل کالونی ایک ثقافتی اور سیاحتی مقام ہے، 67 ہزار مربع میٹر سے زائد کے رقبے پر قائم یہ منصوبہ جبل نور اور اس پر موجود غار حرا کی تاریخی اہمیت اجاگر کرتا ہے اور یہاں آنے والے زائرین کے علم اور ثفاتی تجربے میں اضافے کا باعث بنتا ہے، اس منصوبے میں زائر مرکز، قرآن پاک کا عجائب گھر، وحی گیلری اور غار میں چڑھنے کا ایک راستہ موجود ہے، یہ اشیا زائر کے مذہبی اور ثقافتی علم کو بڑھا کر اس کی روح کی تسکین کا باعث بنتی ہیں .
معلوم ہوا ہے کہ جبل نور اور اس میں موجود غار حرا مسجد حرام سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہ اپنی چٹانی شکل کی وجہ سے ممتاز ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی وحی ملنے کا اعزاز حاصل ہوا، جبل نور اور غار حرا گریٹ سٹریم روڈ کے ذریعے طائف کی طرف جانے والے زائرین کو دکھائی دیتا ہے . مکہ ہسٹری سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فواز الدحاس نے کہا کہ جبل النور مسلمانوں کے لیے عام طور پر ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور یہ مکہ مکرمہ کے اہم ترین تاریخی اور آثار قدیمہ کے مقامات میں سے ایک ہے، پوری تاریخ میں اسے کوہ حرا کہا جاتا تھا لیکن اس کا نام جبل النور رکھا گیا ہے، جو چیز مکہ مکرمہ کو دنیا کے باقی شہروں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک کھلا میوزیم ہے، اس کے تمام پہاڑ، وادیاں، چٹانیں اور قبرستان ایک منفرد تاریخ کی نمائندگی کرتے ہیں، جو پیغمبر ﷺ اور ان کے معزز صحابہ کی لازوال داستانیں سناتے ہیں .

. .

متعلقہ خبریں