گزشتہ دور حکومت میں کرپشن، انتہا پسندی اور لاقانونیت سے مسائل میں اضافہ ہوا، ڈاکٹر مالک

تربت (قدرت روزنامہ) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ قومی شناخت و تشخص اور ساحل وسائل کا دفاع ہر سیاسی کارکن کا فرض ہے، بارڈر کاروبار میں عوام کو یکساں کاروباری مواقع ملنے چاہئیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پارٹی کیچ کے ڈسٹرکٹ کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ قومی شناخت اور سرزمین کا دفاع کرنا ہر سیاسی کارکن کا فرض ہے، بارڈر کاروبار میں بلوچستان کے عوام کو یکساں کاروباری مواقع ملنے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں حقیقی سیاسی کارکنوں کے جانے سے تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر عوامی مسائل حل ہونے کے امکانات زیادہ ہیں، گزشتہ دور حکومت میں کرپشن، انتہا پسندی اور لاقانونیت سے مسائل میں اضافہ ہواہے، تعلیم، صحت سمیت تمام اداروں کی ملازمتیں سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کئے گئے، انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہاہے آئندہ الیکشن میں مخالفین کو واضح عوامی اکثریت سے شکست دیں گے، سیاسی کارکن پارٹی اور قوم کا حقیقی سرمایہ ہیں، پارٹی پروگرام کو گھر گھر پہنچانے میں کارکنوں کو کردار ادا کرنا چاہیے،اجلاس میں نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے اراکین ابوالحسن، مرکزی فنانس سیکرٹری حاجی فدا حسین دشتی، محمد جان دشتی، نثار احمد بزنجو، مرکزی رہنما ملا برکت ، بی ایس او پجار کے چیئرمین بوہیر صالح، ضلعی صدر مشکور انور، ورکنگ کمیٹی کے اراکین میونسپل کارپوریشن تربت کے میئر بلخ شیر قاضی، فدا جان بلیدی، ڈاکٹر برکت اللہ، واجہ محمد بخش، ڈپٹی مئیر تربت نثار احمد، محمد طاہر، ضلعی جنرل سیکریٹری فضل کریم، ڈپٹی جنرل سیکریٹری انور اسلم بلوچ، تحصیل تربت کے صدر یونس جاوید، تحصیل آبسر کے صدر محمد اقبال، جنرل سیکرٹری احسان درازئی، تحصیل گوکدان کے آرگنائزر آصف بلوچ، تحصیل دشت کے نائب صدر شوکت دشتی ، کہدہ عنایت ایڈوکیٹ، تحصیل تمپ کے صدر ناصر رند، عارف سلیم، مسلم یعقوب، تحصیل بلیدہ کے آرگنائزر محمد عظیم، تحصیل کلاتک کے صدر محمد حیات، لطیف نواب، تحصیل شہرک کے صدر حبیب بلوچ، ضلعی انفارمیشن سیکرٹری ولی جان زعمرانی، واجہ شیر جان، تحصیل ناصر آباد کے صدر برکت، حلیم بلوچ، تحصیل بل نگور کے رہنما محمد بخش، احمد بلوچ سمیت دیگر اراکین نے خطاب کیا . اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں نے کہا کہ نیشنل پارٹی سیاسی اکابرین کے نقش قدم پر چل کر عوام کی حقیقی معنوں میں نمائندگی کررہی ہے، نیشنل پارٹی نے یونیورسٹی، میڈیکل کالج، ڈیٹ فیکٹری، تربت سٹی پروجیکٹ، کلچر سینٹر بنائے اور تعلیمی اداروں میں بے شمار سہولیات فراہم کئے، انہوں نے کہا کہ تربت میں میڈیکل کالج کی تعمیر سے ماہر ڈاکٹر تربت میں دستیاب ہیں اور دن رات عوام کی خدمت کررہے ہیں لیکن بدقسمتی سے انہیں وہ سہولیات میسر نہیں، انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں میں تعلیم، صحت سمیت ترقیاتی فنڈز کرپشن کی نذرہو چکے ہیں، تربت سٹی کی زمینوں کو لینڈ مافیا نے قبضہ کیا ہے، امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے،رہنماﺅں نے کہا کہ کرپٹ نمائندوں کو پانچ سالوں کا حساب دینا ہوگا،اجلاس میں نیشنل پارٹی کے مرکزی فنانس سیکریٹری حاجی فدا حسین دشتی، ضلعی صدر مشکور انور کے گھروں پر دستی بم حملے، تجابان میں دلاور واحد، اور ہوشاپ میں چاچا عظیم کی شہادت اور شہید نسیم جنگیاں کے گھر پر چھاپے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی،اجلاس میں کیچ میں امن وامان کی ابتر صورتحال، پانچ سالوں میں کرپشن، سرکاری اراضیات پر قبضے، بارڈر میں کاروباری افراد کودرپیش مشکلات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں تمام تحصیلوں میں کارنر میٹنگ اور شمولیتی پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں اہم سیاسی و تنظیمی فیصلے کئے گئے،، فدا جان بلیدی، رئیس نصیر رئیس، واجہ قادر بخش رئیس، کہدہ محمد نور، پرویز گچکی، اکرام گچکی، ڈاکٹر نور زمان، ناصر رند، حاصل مہر،کونسلر خلیل احمد ، محمد انور، کونسلر شوکت، سجاد بلوچ، طارق بلوچ،عبداللہ، حفیظ علی بخش بھی شریک تھے .

. .

متعلقہ خبریں