امریکا-ایران تنازع پر کردار ادا کرسکتے ہیں تو اندرونی معاملات پر سمجھوتہ کیوں نہیں، سعد رفیق

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے ملکی بقا اور عوامی ریلیف کے لیے بڑے سیاسی سمجھوتے اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان بیرونی سطح پر امریکا اور ایران جیسے ممالک کے معاملات ٹھیک کرنے کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے تو ہم اپنے اندرونی حالات کی بہتری اور سیاسی استحکام کے لیے آپس میں سمجھوتہ کیوں نہیں کر سکتے ہیں۔

لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اس وقت غریب عوام شدید ترین مشکلات اور معاشی بحران سے دوچار ہیں اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ملک کے اندرونی معاملات کو فی الفور بہتر کیا جائے اور سیاسی درجہ حرارت کو نیچے لایا جائے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے واضح کیا کہ ہمیں مل بیٹھ کر آپس کی لڑائی کم سے کم کرنے کی اشد ضرورت ہے، جو کوئی بھی پاکستان کے آئین، قانون اور ترانے کا احترام کرتا ہے، اس کے ساتھ بات چیت اور سمجھوتہ ہونا چاہیے، کیونکہ ملک کو جوڑ کر ہی تمام ادھورے کام مکمل کیے جا سکتے ہیں۔

‘نئے صوبوں اور بلدیاتی اداروں کی حمایت’

انتظامی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے نئے اور چھوٹے صوبوں کی کھل کر حمایت کی اور کہا کہ اس وقت پاکستان میں چھوٹے صوبوں کی بات کی جا رہی ہے اور وہ خود بھی اس کے حامی ہیں لیکن یہ فارمولا صرف ایک صوبے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف پنجاب کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے بلکہ ملک کے تمام خطوں میں انتظامی بنیاد پر چھوٹے صوبے بنانے ہوں گے کیونکہ اصل مقصد یہ ہے کہ ہر پاکستانی کا مسئلہ اس کے گھر کی دہلیز کے قریب حل ہونا چاہیے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے لیے بلدیاتی اداروں کو باقاعدہ آئینی تحفظ حاصل ہونا چاہیے تاکہ جمہوریت کے ثمرات براہ راست عام آدمی تک پہنچ سکیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ہر وقت نعرے بازی کرنے کے بجائے خاموشی سے محنت کی جائے اور ملک کو بحرانوں سے نکالا جائے۔

WhatsApp
Get Alert