پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا . درخواست میں اوگرا وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا .

درخواست ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی جانب سے دائر کی گئی ہے . درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ حکومت نے کابینہ کی منظوری کے بغیر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا، حکومتی اقدام غیر قانونی ہے .
درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کالعدم قرار دے . یہاں واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت کی جانب سے تمام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا تھا . شہباز شریف حکومت کی جانب سے ایک ماہ کے دوران تیسری مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا .

حکومت کی جانب سے اوگرا کی سمری کے برعکس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زائد اضافہ کیے جانے کا انکشاف ہوا .

ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کے روز اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزارت خزانہ کو ارسال کی جس میں پٹرول 4 روپے 80 پیسے اور ڈیزل 8 روپے 60 پیسے، لائٹ ڈیزل اور مٹی کا تیل 13 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز دی . تاہم حکومت کی جانب سے فی لیٹر پٹرول کی قیمت 14 روپے 85 پیسے اضافے سے 248 روپے 74 پیسے مقرر کر دی گئی ہے .
مٹی کا تیل 18 روپے 83 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 13 روپے 23 پیسے جبکہ لائٹ اسپیڈ ڈیزل 18 روپے 68 پیسے مہنگا کیا گیا ہے . وزارت خزانہ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 276 روپے 54 پیسے، مٹی کے تیل کی نئی قیمت 230 روپے 26 پیسے اور لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 226 روپے 15 پیسے مقرر کر دی گئی . پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد 70 فیصد ٹرانسپورٹ کھڑی کرنے کا اعلان کر دیا ہے .

. .

متعلقہ خبریں