پی ٹی آئی رہنماء شہبازگل نے تفتیش میں مزید ناموں کا انکشاف کردیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پی ٹی آئی رہنماء شہبازگل نے تفتیش میں مزید ناموں کا انکشاف کردیا ہے، شہبازگل کے بیان پر متعلقہ افراد 4افراد پر نظر ہے کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے . جیو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی رہنماء شہبازگل نے فوج کے خلاف بیان دینے سے متعلق تفتیش میں مزید ناموں کا انکشاف کردیا ہے .

ذرائع پولیس کا کہنا ہے کہ نجی ٹی وی چینل کے شہبازگل کے بیان پر متعلقہ افراد کو گرفتار کیے جانے کا امکان ہے، اب تک 4افراد پر نظر ہے کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے، شہبازگل کو مزید جسمانی ریمانڈ کیلئے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا .
اس سے قبل جیو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی رہنماء شہبازگل نے پولیس کو دوران تفتیش اپنے بیان میں بتایا کہ میں نے بیان سوچ سمجھ کر دیا، میرے خیال میں میں نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کریہ بیان نہیں دیا .
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہبازگل سے برآمد ہونے والا موبائل فون ڈمی ہے، شہبازگل کا اصل موبائل فون ڈرائیور لے گیا ہے، شہباز گل کے فون سے مسلسل ٹویٹس ہورہی، پتا لگا رہے کہ ٹویٹر ہینڈل والا فون کس کے پاس ہے، شہبازگل کے فون سے ٹویٹ کرنے والا بھی ملزم کا ساتھی ہے .

دوسری جانب پولیس کی جانب سے تفتیش کا عمل جاری ہے کہ پی ٹی آئی رہنماء شہبازگل نے کس کے کہنے پر اداروں کے خلاف بیان دیا . اسی طرح شہبازگل کے موبائل فون کا فرانزک ٹیسٹ بھی کیا جارہا ہے، بنی گالہ اور نجی چینل کے نمبرز کی سی ڈی آرز بھی نکلوائی جارہی ہیں . پولیس نے شہبازگل کے دوسرے موبائل فون کی برآمدگی کیلئے ڈرائیور کے گھر پر چھاپا مارا ، ڈرائیور گھر سے فرار ہوگیا پولیس نے ڈرائیور کی اہلیہ اور برادر نسبتی کو گرفتار کرلیا، جوڈیشل مجسٹریٹ سلمان بدر نے خاتون ملزمہ کو جیل بھیج دیا ہے، جبکہ ملزم نعمان کا دوروزہ جسمانی ریمانڈ بھی منظور کرلیا ہے .
اسی طرح پولیس کو شہبازگل کی میڈیکل رپورٹ موصول ہوگئی ہے، رپورٹ کے مطابق شہبازگل پر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا گیا اور نہ ہی تشدد کے نشانات ہیں . دوسری جانب نیوز ایجنسی کے مطابق اسلام آباد پولیس نے شہبازگل کے ڈرائیور کے گھر پر چھاپہ مارا، پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرائیور کے اہلِ خانہ نے کارِ سرکار میں عملی مزاحمت کی، البتہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس اس کیس سے جڑے تمام تر شواہد و ثبوت اکٹھے کررہی ہے، جہاں کہیں بھی قانونی کاروائی کی ضرورت پڑی پولیس اپنا کام کرے گی .

. .
Ad
متعلقہ خبریں