پنجاب میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے، لوکل گورنمنٹ بل منظور کر لیا گیا

لاہور (قدرت روزنامہ) پنجاب میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے، لوکل گورنمنٹ بل منظور کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف اور ق لیگ کی اتحادی صوبائی حکومت نے پنجاب اسمبلی سے لوکل گورنمنٹ بل منظور کروا لیا۔ بل کے مطابق پنجاب میں آئندہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے پنجاب میں پچیس ضلع کونسل اور گیارہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن ہوں گی میٹروپولیٹن کارپوریشن کا سربراہ مئیر ہوگا۔
بدھ کے روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے اور چھتیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر سبطین خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس میں محکمہ ماحولیات کے بارے میں سوالوں کے جوابات متعلقہ وزیر راجہ بشارت نے دئے ، وقفہ سوالات کے بعد سرکاری کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ بل 2021 پیش کیا گیا، اس کے لئے لوکل گورنمنٹ بل 2021 پیش کرنے کے لئے قوانین معطل کئیے گئے،یہ بل صوبائی وزیر پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ نے پیش کیاایوان نے لوکل گورنمنٹ بل 2021 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی،اس دوران اپوزیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں کورم کی نشاندہی کی لیکن سپیکر نے کورم کی نشاندہی کو نظر انداز کرتے ہوئے اجلاس کی کاروائی جاری رکھی،جس پراپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور ایوان میں شور شرابا کیا ، کچھ دیر احتجاج اور نعرے بازی کرنے کے بعد اپوزیشن ارکان ایوان سے باہر چلے گے۔
اپوزیشن کے ایوان سے باہر جانے کے بعد حکومت نے لوکل گورنمنٹ بل آسانی سے منظور کر لیا۔بلدیاتی بل کے مطابق پنجاب میں آئندہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے پنجاب میں پچیس ضلع کونسل اور گیارہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن ہوں گی میٹروپولیٹن کارپوریشن کا سربراہ مئیر ہوگا ،عوام براہ راست ووٹ سے مئیر کا انتخاب کرے گی، دیہات اور شہروں میں یونین کونسل بنیں گی ،تحصیل کونسل اور ٹاونز نئے بلدیاتی ایکٹ میں ختم کردئیے گئے ،پنجاب کے دیہات میں ایک ویلج پنچائت کونسل ہوگی ،ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ کابینہ ہوگی تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز۔
واسا۔ پی ایچ ایز میٹرو پولٹین کے میئر کیماتحت ہوں گی،پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ٹیکنکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی اور رنگ روڈ اتھارٹی پنجاب کی سالانہ کارکردگی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی گئیں،یہ کارکردگی رپورٹ صوبائی وزیر پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ نے پیش کی۔اس موقع پر نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے ملک احمد خان بھچر نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کے لیے گندم کے سیزن کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے،کمیٹی میں متاثرہ علاقوں کے ممبران اسمبلی کو رکھا جائے،گندم کے بیج پر سبسڈی دی جائے بارہ ایکڑ کے لیے کیوں کہ بیج کی قیمت قابل برداشت نہیں ہے ،بیج مہنگا ہونے کی وجہ سے کسان پہلے ہی کنولا کی طرف جا رہے تھے ، جس پر سپیکر سبطین خان نے صوبائی وزیر راجہ بشارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز بہت اچھی ہے احمد خان بھچرکے ساتھ بیٹھ کر بات کر لیں، ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس 28 ستمبر بروز بدھ سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
