سونے میں سرمایہ کاری محفوظ، اصلی ہے یا نقلی پہچان کیسے کریں؟

پاکستان میں سونے کے نرخ 3 لاکھ روپے سے اوپر ہیں


کراچی (قدرت روزنامہ)دنیا بھر میں سونے کی سرمایہ کاری کو انتہائی محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم اصل مسئلہ اس کی پہچان کا آتا ہے کہ آیا یہ اصلی ہے یا نقلی؟۔ صارفین کو سونے کے حوالے سے شدید خدشات کا سامنا رہتا ہے۔
سونے کے اصلی یا نقلی ہونے کے حوالے سے بی بی سی کی تحقیق نے عوام کی مشکل کسی حد تک آسان کردی ہے۔ خالص سونا پرکھنے کے کئی طریقے ہیں تاہم جدید دور میں آپ سونے کے اصل ہونے کو ڈیجیٹل پیوریٹی مشین میں ڈال کر ایک منٹ میں ناپ سکتے ہیں تاہم لیبارٹری میں اس کے کھرے ہونے کی پیمائش کرنے میں تقریباً 4 گھنٹے لگتے ہیں۔
سونا خریدتے وقت کن چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
بازار میں 22 قیراط کے سونے سے بنے زیورات سب سے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں، ان تمام زیورات پر ہال مارک ہونا لازم ہے۔
ہال مارکنگ میں حکومتی بیورو کا لوگو، جیولری کیریٹ (قیراط) کا نشان مثلاً 22 کے اور ہال مارکنگ کا مخصوص نمبر لگایا جاتا ہے۔ اصل سونے کے زیورات میں ان تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے، ان تین چیزوں کے بغیر زیورات بیچنا قانون کے تحت جرم ہے اور اس کی ہر ملک میں قانون کے مطابق سزائیں ہیں۔
قیراط کے حساب سے سونے کی اقسام
ماہرین کے مطابق سونے کی مختلف اقسام ہیں جو ان کے خالص اور اصل ہونے کو ظاہر کرتے ہیں، ان کو 24، 23، 22، 20، 18 اور 14 قیراط میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں سے 22، 18 اور 14 قیراط سونا زیورات بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔
سونے کو مضبوط بنانے کیلئے دیگر معدنیات کا استعمال کیا جاتا ہے اور 995 خالص سونے سے زیورات بنانا مشکل ہے۔
یاد رہے کہ اگر سونا 995 ہے تو اسے 24 قیراط سمجھا جاتا ہے، اگر 1000 ملی گرام کھوٹ میں 995 (99.5 فیصد) سونا ہو تو یہ خالص سونا ہے۔ اسی طرح اگر سونا 95.8 فیصد ہے تو اسے 23 اور اگر 91.6 فیصد ہے تو اسے 22 قیراط سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر یہ 833 ہے تو یہ سونا 20 قیراط ہے جبکہ اگر یہ 750 ہے تو یہ 18 قیراط سمجھا جائے گا۔ اسی طرح اگر یہ 585 ہے، تو اس سونے کو 14 قیراط سونا کہا جاتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس کے خالص ہونے کا انحصار سونے کی دوسری دھاتوں کے ساتھ ملاوٹ کے اصول پر ہے، متعینہ مقدار سے زیادہ دھاتیں استعمال نہیں کی جاسکتیں کیونکہ اس سے صارفین کے مفادات داؤ پر لگ سکتے ہیں۔
خالص سونے کو کیسے پرکھیں؟
سونے کے کھرے ہونے کا تعین لیبارٹری میں ہوتا ہے، لیکن یہ کیسے چیک کیا جاتا ہے؟۔
سونے کی اصلیت جانچنے کے عمل میں کئی گھنٹے لگتے ہیں، سب سے پہلے حکومتی عملہ دکانوں سے ہال مارک شدہ سونے کے نمونے جمع کرتا ہے، اس بات سے قطع نظر کہ یہ کس دکان سے لایا گیا ہے، انہیں ایک خاص کوڈ دیا جاتا ہے، پھر لیب میں لانے کے بعد اسے ایک نیا کوڈ دیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے کی خالصیت کو چیک کرتے وقت اس پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کس دکان سے لائے گئے سونے کی جانچ کی جارہی ہے، یہ عمل ہر چیز کو شفاف بنانے کیلئے اپنایا گیا ہے۔
ابتدائی تشخیص کیلئے ایکس آر ایف نامی مشین کا استعمال کرتے ہوئے نمونوں کی جانچ کی جاتی ہے، اس کے قیراط کا تخمینہ لگایا جاتا ہے، وزن کیا جاتا ہے اور نمونے ایک رجسٹر میں درج کیے جاتے ہیں۔
نمونوں کو 22، 18، 14 قیراط میں تقسیم کیا جاتا ہے، اگر اس میں کوئی ممنوعہ مادہ پایا جائے تو ان نمونوں کو قبول نہیں کیا جاتا۔ اگر نمونوں میں کوئی ممنوعہ مادہ نہیں ہے تو سونا 1100 ڈگری سینٹی گریڈ پر 5 سے 10 منٹ کیلئے پگھلا دیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پگھلے ہوئے سونے کے اصل وزن اور ابتدائی تخمینہ شدہ وزن کا موازنہ کیا جاتا ہے، اس مرکب کو پھر ہائیڈرولک مشین میں دباکر بٹنوں کی شکل دی جاتی ہے، پھر اسے رولنگ مشین کے ذریعے پتلی شیٹ میں ڈھالا جاتا ہے، شیٹ کو قینچی سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہے اور کاغذ پر 150 ملی گرام مکھن رکھا جاتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سونے، چاندی اور تانبے کا مرکب ایک شیشے کے برتن میں بٹر پیپر پر ڈالا جاتا ہے، اس کا دوبارہ وزن کیا جاتا ہے، اس کی چھوٹی چھوٹی گیندیں ایک مشین کی مدد سے بنتی ہیں جنھیں بوائلنگ پلیئر کہا جاتا ہے اور پھر اسے بھٹی میں پگھلا دیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسے 1000 ڈگری سیلسیس کے درجہ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے، یہ عمل مکمل ہونے تک سونا اور چاندی باقی رہ جاتا ہے اور باقی تمام مواد آکسائڈائز ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد چاندی کو نائیٹرک ایسڈ اور ڈیونائزڈ پانی کا استعمال کرتے ہوئے سونے سے الگ کیا جاتا ہے، اس میں تقریباً 15 منٹ لگتے ہیں۔
سونے کی اصلیت کا تعین سونے کا رنگ تبدیل کرکے اور مختلف ریاضیاتی فارمولوں کا استعمال کرتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے بعد بچ جانیوالے مرکب کا موازنہ دکان سے جانچ کیلئے لائے گئے سونے کے وزن سے کیا جاتا ہے، اس عمل میں ضائع ہونیوالے مواد کی پیمائش کی جاتی ہے اور باقی مکسچر کو ڈی کوڈ کرکے واپس اس دکان پر بھیج دیا جاتا ہے جہاں سے اسے لایا گیا تھا۔
سونے میں ملاوٹ کے وقت کون سے مادے نقصاندہ ہیں؟
سونے کی خاصیت کو بڑھانے کیلئے اس میں دیگر دھاتوں کو ملایا جاتا ہے تاہم سونے میں کیڈمیم، اوسمیم، پیلیڈیم، روڈیم، روتھینیم اور اریڈیم کا استعمال ممنوع ہے، ان کو استعمال کرنے سے سونے کا مرکب نہیں بنتا۔
رپورٹ کے مطابق کیڈمیم انسانی جسم پر بھی منفی اثرات ڈالتا ہے، اس لیے ان مادوں پر پابندیاں عائد کردی گئی ہے تاہم سونے سے مرکب بنانے کیلئے چاندی، تانبا اور زنک کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمت
پاکستان میں 7 فروری کو سونے کی قیمت نے 3 لاکھ روپے فی تولہ کی سطح پہلی بار عبور کی تھی، جمعہ کے روز صرافہ مارکیٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سونے کی قیمت 306000 روپے فی تولہ کی سطح سے اوپر چلی گئی تھی تاہم ہفتہ کو بھاری کمی کے بعد نرخ 3 لاکھ 3 ہزار 100 روپے پر آگئی تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *