افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکے، وزیراعظم
پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گا، تاشقند میں ازبک صدر کیساتھ وزیراعظم کی مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے کیونکہ افغانستان میں امن و استحکام خطے کے مفاد میں ہے۔
تاشقند میں ازبک صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا کہ دورہ ازبکستان پر بہترین میزبانی پر مشکور ہوں، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مضبوط روابط قائم ہیں جبکہ تعلقات کی طویل تاریخ بھی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، ازبکستان پاکستان کا قابل اعتماد شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کی خوشحالی اور ترقی ہمارا مشترکہ عزم ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ازبک صدر عملی اقدام پر یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے ازبکستان کو ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچایا ہے۔ ازبکستان کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کے دورے کی دعوت دیتا ہوں۔ پاکستان کی ترقی کے لیے میں پرعزم ہوں اور نواز شریف کے دیے ہوئے ترقی کے ویژن پر گامزن ہوں۔ انتھک محنت اور پختہ عزم سے ہی ترقی کا سفر طے کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ٹیم کے ہمراہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، طویل ترین سفر کا آغاز پہلے قدم سے ہوتا ہے جو ہم نے اٹھایا لیا اور ایک سال میں پاکستان کی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔
حکومتی اقدامات پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے 2.4 فیصد پر لے آئے ہیں اور پالیسی ریٹ میں کمی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا جبکہ معاشی شرح نمو میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ازبکستان کے ترقیاتی ماڈل سے مستفید ہوں گے اور انتھک محنت سے پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گا۔ ریولے کے ذریعے تجارت اہمیت کی حامل ہے، معدنیات کے شعبے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری یقینی بنائیں گے اور سیاحت کے شعبے میں بھی مل کر کام کریں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ازبکستان کو کراچی اور لاہور سے منسلک کریں گے، شاہراہ ریشم سے شروع تاریخی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ دونوں ممالک میں مفاہمتی یادداشتیں اور معاہدے جلد حقیقت کا روپ دھار لیں گے۔