آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے، عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف کب ملے گا؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)ملک بھر میں گھریلو صارفین اور صنعتی صارفین بجلی کے زیادہ بلوں سے پریشان ہیں، بھاری بھر کم بلوں کی ایک بڑی وجہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے ہیں کہ جن کے تحت حکومت کو اربوں روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ان آئی پی پیز کو ادا کرنے ہوتے ہیں، اس ادائیگی کے لیے صارفین سے فی یونٹ اضافی رقم وصول کی جاتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے مشیر توانائی محمد علی کی قیادت میں ٹاسک فورس تشکیل دی تھی کہ جس نے ان آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کرکے نئے معاہدے کرنے تھے تاکہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کمی لائی جا سکے۔
وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات دو ماہ میں مکمل ہو جائیں گے، صنعتوں کے لیے جون 2024 میں بجلی کے جو ریٹ تھے اب تک اس میں 11 روپے فی یونٹ کی کمی ہو چکی ہے، وزیراعظم اپریل میں عوام کے لیے بجلی کی قیمتوں کمی کا اعلان کریں گے۔
اس ٹاسک فورس کے ونڈ اور سولر کے آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جبکہ اب تک ٹاسک فورس نے 6 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے منسوخ کردیے ہیں، اب ان آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز ادا نہیں کرنا ہوتے، 14 سے ساتھ مذاکرات ہو چکے ہیں اور وہ چارجز کم کرنے پر متفق ہیں جبکہ 9 بگاس یعنی گنے کی پھوک سے چلنے والے آئی پی پیز ہیں جنہوں نے نئے معاہدے کرلیے ہیں۔
وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق غیر ملکی آئی پی پیز کے ساتھ بھی ٹاسک فورس نے نئے مذاکرات کیے ہیں، چینی کمپنیوں کے ساتھ بھی معاہدوں پر مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات کے دوران غیر ملکوں سفیروں نے بھی حکومت پر پریشر ڈالا کہ پلانٹ لگانے والوں کے ساتھ ایسا نہ کریں، انویسٹر کا اعتماد خراب ہوگا لیکن وزیراعظم کی جانب سے ہدایت تھی کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے نئے معاہدے کیے جائیں۔
وزیر توانائی کے مطابق آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدوں کا عوام کے بجلی بلوں میں ریلیف کا فیصلہ نیپرا نے کرنا ہے، 29 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کے بعد نئے معاہدے تیار ہوئے ہیں، اب نیپرا کو پٹیشن دائر کی گئی ہے کہ نیا معاہدہ ہوگیا ہے، قیمتیں کم کر دی جائیں، ہر پلانٹ کی مختلف سالانہ بچت ہوتی ہے، پھر نیپرا فیصلہ کرتا ہے کہ بجلی کی کتنی قیمت کم ہونی ہے۔
وزارت توانائی کے مطابق اس وقت ملک میں مجموعی طور پر 104 آئی پی پیز موجود ہیں جن کی مجموعی کیپیسٹی 38 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی ہے، اس وقت تک جن 6 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے منسوخ کیے گئے ہیں ان کی کیپیسٹی 2800 میگاواٹ تھی، جن 14 کے ساتھ نئے معاہدے ہوئے ہیں ان کی کیپیسٹی 3200 میگاواٹ ہے، جبکہ بگاس کے 9 آئی پی پیز کی 230 میگاواٹ کیپیسٹی ہے۔
سرکاری آئی پی پیز کی کیپیسٹی 21 ہزار میگاواٹ ہے اور اس وقت جن کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں وہ 15 ہزار میگاواٹ بجلی بنا رہے ہیں، ان کے ساتھ بھی نئے معاہدوں کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
وزارت توانائی کے مطابق 44 ونڈ اور سولر آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، اپریل یا مئی تک مذاکرات مکمل ہو جائیں گے اور نئے معاہدے کر لیے جائیں گے۔