پاراچنار میں کرم پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا 29 ویں روز میں داخل


پاراچنار(قدرت روزنامہ)پاراچنار میں کرم پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا 29 ویں روز میں داخل ہوگیا، مطالبات اور قومی حقوق کے لیے دھرنے میں کثیر تعداد میں شہری شریک ہیں جبکہ پاک افغان خرلاچی بارڈر اور ٹل پاراچنار واحد شاہراہ گزشتہ 182 روز سے ہر قسم آمد و رفت کے لیے بند ہے، بارڈر اور مین سڑک کی بندش کی وجہ سے معاملات زندگی شدید متاثر ہیں۔
پاراچنار میں پریس کلب کے سامنے 29 روز سے جاری احتجاجی دھرنے میں شریک دھرنا منتظمین نے دھمکی دی ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے باوجود دن رات شہری سڑکوں پر دھرنا دے رہے ہیں، رمضان المبارک کے بعد دھرنے کو نیا شکل دیا جائے گا۔
مظاہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو پلان بی کا استعمال کریں گے۔
دھرنا منتظمین کا کہنا ہے کہ ٹل پاراچنار مین شاہراہ کو عام آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے، قافلے کو لوٹنے والے اور خوارج کے خلاف کارروائی کی جائے، گرفتار شدہ افراد کو جلد از جلد بازیاب کیا جائے، جب تک یہ مطالبات نہیں مانے جاتے دھرنا جاری رہے گا۔
پاک افغان خرلاچی بارڈر اور ٹل پاراچنار واحد شاہراہ 182 روز سے بند
دوسری جانب پاک افغان خرلاچی بارڈر اور ٹل پاراچنار واحد شاہراہ گزشتہ 182 روز سے ہر قسم آمد و رفت کے لیے بند ہے، بارڈر اور مین سڑک کی بندش کی وجہ سے معاملات زندگی شدید متاثر ہیں، ترسیل نہ ہونے کی وجہ سے اشیائے ضروریات زندگی کے نرخ نامے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔
پاڑا چنار کے مکینوں کا کہنا ہے کہ پاک افغان خرلاچی بارڈر اور ٹل پاراچنار واحد شاہراہ گزشتہ 182 روز سے ہر قسم آمد و رفت کے لیے بند پڑا ہے، شہر میں میسر شدہ چیزیں دوگنے قیمت میں فروخت ہورہی ۔۔ شہر میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود نہیں جس کی جو مرضی وہی کررہا ہے، بڑا گوشت فی کلو 2 ہزار، چکن 2500 روپے اور آنڈے والے زندہ مرغی 1200 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹماٹر 300 روپے ، پیاز 50، جبکہ دیگر عام سبزیاں بھی 250 سے اوپر نرخوں میں فروخت ہو رہی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پائیدار اور دیرپا امن و امان کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں، کل فریقین کے درمیان ہونے والا امن معاہدہ امن کی طرف اشارہ ہے، ٹل پاراچنار مین شاہراہ جلد از جلد آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *