ہمارے احتجاج کو ہمیشہ غلط سمجھا جاتا ہے، صدر، وزیر اعظم بتائیں ہم کہاں جائیں، خالد مقبول صدیقی
عدالتیں بتائیں ہمیں انصاف کہاں سے ملے گا، کوئی حقوق کےلئے ازخود کھڑا ہو تو ہمیں الزام نہ دیا جائے،رہنما ایم کیو ایم

کراچی (قدرت روزنامہ)ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ عدالتیں ہمیں بتائں کہ ہمیں انصاف کہاں سے ملے گا، حکمران بتائں، ریاست بتائے، وزیر اعظم، صدر بتائیں ہم کہاں جائیں، ہمارے احتجاج کو ہمیشہ غلط سمجھا جاتا ہے۔
کراچی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عید سے قبل کراچی والوں کو سوگ میں ڈال دیا گیا ہے، کراچی والوں کے خون سے پورے رمضان سڑکیں۔ لہولہان ہوتی رہی ہیں، سیکڑوں نوجوان ڈاکوؤں کے ہاتھوں مارے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا کونہ کونہ 17 سالوں کا اپنا نوحہ سناتا ہے، منی بسیں ماضی میں عوام کو نشانہ بناتی تھیں، بشری زیدی کے واقع نے کراچی کو بدل کر رکھ دیا تھا، ڈمپر سے ہلاکتیں تسلسل سے کیا پیغام دیا جارہا ہے، ڈمپر کے جو ہارس پاور ہیں، اس کو شہر میں چلنے کی اجازت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈمپر نان کسٹم پیڈ اور اسمگل شدہ ہیں، مافیا طرز پر ڈمپر کو چلایا جاتا ہے، ایک سسٹم ڈمپر مافیا کو سپورٹ کرتا ہے، چیف جسٹس کو خط لکھا ہے مطالبہ کیا ہے کہ اس پر سپریم کورٹ سوموٹو لے۔
خالد مقبول نے کہا کہ عدالتیں ہمیں بتائے کہ ہمیں انصاف کہاں سے ملے گا، حکمران بتائں، ریاست بتائے، وزیر اعظم، صدر بتائیں ہم کہاں جائیں، ہمارے احتجاج کو ہمیشہ غلط سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم حادثات میں جاں بحق افراد کے لئے پٹیشن دائر کرنے جارہی ہے، ہمارے ساتھ آئیں، قانونی کوشش کریں گے، ہمارے اہم ترین سیکڑوں اہم ترین فیصلے عدالتوں میں رل رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لیاری گینگ وار کی طرح اغوا تاوان کی وارداتوں شروع ہوگئی ہیں، اگر کوئی حقوق کے لئے از خود کھڑا ہو تو ہمیں موردالزام نہ ٹھہرایا جائے، جعلی ڈومیسائل والوں کو پینشن مل جاتی ہے، دنیا بھر میں پولیس مقامی ہوتی ہے، مخیر حضرات آگے آئیں، عدالتوں سے انصاف مانگنے کی حجت تمام کریں۔