دکی میں ملت پال جماعتوں کا بڑا جلسہ، افغان کڈوال کی بے دخلی، مائنز ایکٹ اور دہشتگردی کے خلاف شدید احتجاج

اقوام متحدہ افغان مہاجرین کے حقوق کی ضمانت دے، ریاستی ادارے مظالم بند کریں: مقررین کا مطالبہ


دکی(قدرت روزنامہ)ملت پال سیاسی و جمہوری جماعتوں کے زیرِ اہتمام جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں دکی بازار میں ایک بڑا جلسہ عام منعقد ہوا، جس کی صدارت عوامی نیشنل پارٹی دکی کے ضلعی صدر حاجی عزت ناصر نے کی۔جلسے سے قبل دکی بازار میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا، جس میں شرکا “افغان کڈوال عوام کی بے دخلی نامنظور”، “مائنز و منرل ایکٹ نامنظور” اور “دہشتگردی نامنظور” کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔
جلسہ عام سے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز نعمت خان جلالزئی، پروفیسر اسد ترین، عوامی نیشنل پارٹی کے ولی داد میانی، حاجی عزت ناصر، این ڈی ایم کے ایڈووکیٹ شریف کاکڑ، حیات خان حیات، پی ٹی ایم کے روزی خان ایثار اور کامریڈ عصمت نے خطاب کیا۔ اس موقع پر قراردادیں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری سلام ناصر نے پیش کیں، جبکہ سٹیج سیکریٹری کے فرائض وزیر خان ناصر نے انجام دیے اور تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت جعفر خان کو حاصل ہوئی۔مقررین نے افغان کڈوال عوام کے ساتھ حکومتی و ریاستی اداروں خصوصا پولیس، لیویز اور انتظامیہ کی جانب سے بے دخلی کے نام پر کیے جانے والے انسانیت سوز اور توہین آمیز سلوک، غیر قانونی گرفتاریاں، جائیدادوں پر قبضے اور رشوت ستانی جیسے افغان دشمن اقدامات کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ، UNHCR، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان پر دبا ڈال کر سہ فریقی معاہدے UNHCR، افغانستان، پاکستان کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے اور جنیوا کنونشن کے تحت افغان مہاجرین کو حاصل حقوق کا تحفظ کیا جائے۔مقررین نے اسلام آباد میں ہونے والے منرل انویسٹمنٹ فورم کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینِ پاکستان صوبوں کو قدرتی وسائل پر مکمل اختیار دیتا ہے، اور SIFC جیسے اسٹیبلشمنٹ کے قائم کردہ غیر آئینی اداروں کے ذریعے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے معدنی وسائل کی لوٹ مار کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
اس تناظر میں، خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے معدنیات سے متعلق بل کا پیش کرنے اور بلوچستان اسمبلی کی جانب سے 12 مارچ 2025 کو مائنز و منرل ایکٹ کی منظوری کو پشتون و بلوچ اقوام کے مستقبل کے ساتھ غداری کے مترادف قرار دیا گیا۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ ان علاقوں کے قدرتی وسائل پر وہاں کے عوام کے حقِ حاکمیت اور حقِ ملکیت کو تسلیم کیا جائے۔جلسے میں دکی ضلع میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، اغوا برائے تاوان، دہشتگردی اور جرائم میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے حافظ اللہ داد لونی کی تین ماہ سے عدم بازیابی، چوری، ڈکیتی، موٹرسائیکل و موبائل چھیننے کے واقعات اور کوئلہ مزدوروں کی گرفتاری کی سخت مذمت کی۔ نو سالہ معصوم مصور خان کاکڑ کی پانچ ماہ سے زائد عرصے سے عدم بازیابی کو صوبائی حکومت اور امن و امان کے اداروں کی ناکامی قرار دیا گیا۔
علاوہ ازیں، پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر، خیبر جرگہ کے میزبان ملک نصیر خان کوکی خیل، صمد لالا و دیگر کی عدم بازیابی، پی ٹی ایم پر پابندی، اور اس کے سینکڑوں رہنماں و کارکنوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی ایم کے تمام گرفتار رہنماں کو فوری رہا کیا جائے اور سیاسی کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول سے خارج کیے جائیں۔

WhatsApp
Get Alert