کوہلی جانتے تھے کہ لوگ مررہے ہیں مگر پھر بھی تقریب جاری رہی، سابق بھارتی کھلاڑی نے مزید کیا کہا؟


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)نہ ہی رائل چیلنجرز بنگلورو اور نہ ہی ویرات کوہلی اپنے خوابوں میں بھی سوچ سکتے تھے کہ ان کی آئی پی ایل کی فتح کا جشن بنگلورو کے کرکٹ شائقین کے لیے ایک المیے میں بدل جائے گا۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وراٹ کوہلی اور آر سی بی کے آئی پی ایل ٹائٹل جیتنے کے اگلے روز احمد آباد سے بنگلورو پہنچی اور اپنی خوشی مداحوں کے ساتھ بانٹنے کے لیے بے چین تھی لیکن پھر چند گھنٹوں کے اندر ان کا جشن ایک ڈراؤنے خواب میں بدل گیا۔
چناسوامی اسٹیڈیم کے باہر بھگدڑ مچ گئی جس میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 33 دیگر زخمی ہو گئے۔
واقعے کی دلخراش ویڈیوز جس میں جانیں گئیں اور بہت سے زخمی ہوئے، آن لائن گردش کرتے رہتی رہیں۔ سانحہ کے پیمانے کو محسوس کرنے پر کوہلی سمیت آر سی بی نے فوری تعزیت کا اظہار کیا۔
اس حوالے سے بھارت کے سابق فاسٹ بولر اتل وسان نے آر سی بی اور کوہلی سے سوال کیا کہ کیا وہ جانتے تھے کہ جب وہ اسٹیڈیم میں آئی پی ایل میں اپنی فتح کا جشن منا رہے تھے تو عین اسی وقت باہر کرکٹ فینز بھگدڑ کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے تھے۔
اتل وسان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر کوہلی یہ بات جانتے تھے تو انہیں فوری طور پر جشن چھوڑ کر لوگوں کی طرف جانا چاہیے تھا۔
دریں اثنا ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سابق کرکٹر اتل وسان نے کہا کہ سیاستدان بے رحم ہوسکتے ہیں اور اسی طرح کارپوریٹ سیکٹر بھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے کیونکہ انہیں بیلنس شیٹ اور ریونیو دکھتا ہے۔
دوسری جانب کچھ بھارتی میڈیا نے اتل وسان کے حوالے سے کہا ہے کہ انہوں نے وراٹ کوہلی کو وکٹری پریڈ جاری رکھوانے پر شدید تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ کوہلی کو سانحے کا معلوم ہونے کے باوجود تقریب نہیں روکی گئی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ اسٹیڈیم کے باہر لوگ مر رہے تھے اور اندر مبارکباد دی جارہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرنچائز انتظامیہ اور سیاستدانوں کو المناک واقعہ کا علم تھا لیکن یہ کیسے ممکن ہے کوہلی کو نہیں پتا تھا۔

WhatsApp
Get Alert