آپ کا گھر تو شامل نہیں! سانحہ لیاری کے بعد کراچی میں درجنوں عمارتیں گرانے کا فیصلہ، کون کون سی بلڈنگز سیل؟


کراچی(قدرت روزنامہ)لیاری کے علاقے میں حالیہ المناک عمارت گرنے کے واقعے کے بعد کراچی کی انتظامیہ نے کم از کم 44 خستہ حال عمارتوں کو خالی کرا لیا ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
اس حوالے سے کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں لیاری حادثے کے بعد خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی، انخلاء اور انہدام سے متعلق حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ صرف ضلع جنوبی میں 41 خستہ حال عمارتوں کو خالی کرا کے سیل کر دیا گیا ہے جن میں 10 تاریخی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ ان عمارتوں سے مکینوں کا بروقت انخلاء ممکن بنایا گیا تاکہ ان کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے اجلاس میں بتایا کہ یہ 41 عمارتیں شدید خستہ حالی کا شکار تھیں جن میں بعض ایک صدی سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔
مزید تین عمارتوں کو ضلع شرقی میں بھی خالی کرایا گیا جیسا کہ ڈپٹی کمشنر شرقی ابرار جعفر کی جانب سے اجلاس میں آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی عمارت کے انہدام کے لیے کمشنر کراچی یا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی منظوری لازم ہو گی۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تاریخی عمارتوں کی ممکنہ مسماری سے قبل مشاورتی اور تکنیکی کمیٹی سے مشاورت کی جائے گی تاکہ تاریخی ورثے کو لاحق خطرات سے بچا جا سکے۔
کمشنر کراچی نے چار افسران کو فوری طور پر سروے کی ذمہ داری سونپ دی ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر جنوبی کو اضافی اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ صورتحال پر فوری ردعمل ممکن بنایا جا سکے۔
اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے شاہ میر بھٹو، جنوبی، شرقی، وسطی اور مغربی اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، سینئر افسران اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔
واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں لیاری کے بغدادی علاقے میں پانچ منزلہ عمارت کے گرنے سے 27 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جس کے بعد شہر بھر میں خستہ حال عمارتوں کے خلاف مہم کا آغاز کیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert